برطانوی حکام نے تصدیق کی ہے کہ بادشاہ چارلس سوم اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اس ہفتے ہونے والی اہم ملاقات کیمرے سے دور اور نجی ماحول میں ہوگی۔ یہ فیصلہ اس خدشے کے تحت کیا گیا ہے کہ کہیں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ پیش آنے والے تلخ منظر جیسی صورتحال دوبارہ نہ ہو۔
گارجین کی رپورٹ کے مطابق ملاقات کے آغاز میں صرف رسمی تصاویر بنائی جائیں گی، تاہم اصل بات چیت میڈیا کی موجودگی کے بغیر ہوگی۔ برطانوی حکومت اس دورے کو دونوں ممالک کے تعلقات بہتر بنانے کے لیے نہایت اہم قرار دے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی پیشکش کردی، صدر ٹرمپ تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں، ترجمان وائٹ ہاؤس
اطلاعات ہیں کہ وزیراعظم کیئر اسٹارمر اور وزیر خزانہ ریچل ریوز کی جانب سے ایران جنگ پر تنقید کے بعد ٹرمپ ناراض ہیں، اور لندن امید رکھتا ہے کہ بادشاہ چارلس اپنی سفارتی مہارت سے کشیدگی کم کر سکیں گے۔
دورے کے دوران بادشاہ چارلس کے ہمراہ وزیر خارجہ ایویٹ کوپر بھی مختلف تقریبات میں شریک ہوں گی۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر کوئی غیر متوقع صورتحال پیدا ہوئی تو وہ فوری طور پر معاملہ سنبھالنے کے لیے تیار ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ سے جھڑکیاں کھانے والے زیلینسکی کو برطانوی وزیراعظم نے گلے لگا لیا؟
تاہم دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں بادشاہ چارلس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ‘شاندار شخصیت، بہادر انسان اور بہترین نمائندہ’ ہیں۔
اگرچہ ملاقات دوستانہ ماحول میں متوقع ہے، تاہم ماہرین کے مطابق بادشاہ چارلس اپنی تقاریر میں ماحولیات اور یوکرین کی حمایت جیسے موضوعات کو محتاط انداز میں اٹھا سکتے ہیں، جو ٹرمپ انتظامیہ پر بالواسطہ تنقید سمجھی جا سکتی ہے۔














