ایک نئے گیلپ سروے کے مطابق نصف سے زائد امریکی شہریوں کا کہنا ہے کہ ان کی مالی صورتحال مسلسل خراب ہو رہی ہے، جبکہ بڑی تعداد روزمرہ اخراجات اور مستقبل کی مالی ضروریات کے بارے میں شدید پریشان ہے۔
سروے کے مطابق 55 فیصد امریکیوں نے کہا کہ ان کے مالی حالات بگڑ رہے ہیں، جو گزشتہ برس 53 فیصد اور 2024 میں 47 فیصد تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ مسلسل پانچواں سال ہے جب زیادہ امریکیوں نے مالی بہتری کے بجائے خرابی کی شکایت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایران امریکا کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں بے چینی برقرار، خام تیل کی قیمت 107 ڈالر سے تجاوز کر گئی
گیلپ کے مطابق 62 فیصد افراد کو ریٹائرمنٹ کے بعد اخراجات پورے نہ ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ 60 فیصد لوگ اس بات سے پریشان ہیں کہ کسی سنگین حادثے یا بیماری کی صورت میں طبی اخراجات کیسے برداشت کریں گے۔
سروے میں بتایا گیا کہ 54 فیصد امریکی سرمایہ کاری سے مناسب منافع نہ ملنے اور موجودہ معیار زندگی برقرار رکھنے کے حوالے سے فکرمند ہیں۔

اس کے علاوہ تقریباً نصف شہری روزمرہ صحت کے اخراجات سے پریشان ہیں، جبکہ 41 فیصد ماہانہ بلوں کی ادائیگی اور 40 فیصد اعلیٰ تعلیم کے اخراجات برداشت نہ کر سکنے کے خدشات رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان میں بڑھتی مہنگائی، سائیڈ بزنس کا رجحان بڑھ گیا
رپورٹ کے مطابق مہنگائی، توانائی، رہائش، صحت، تعلیم، ٹرانسپورٹ اور بچوں کی نگہداشت کے بڑھتے اخراجات امریکی شہریوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بن چکے ہیں۔
سروے میں شامل 55 فیصد افراد نے کہا کہ حالیہ قیمتوں میں اضافے نے ان کی مالی زندگی کو متاثر کیا ہے، جبکہ 13 فیصد نے تیل اور گیس کی بڑھتی قیمتوں پر تشویش ظاہر کی۔














