آسٹریا اگلے ماہ ازبکستان کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کرے گا جس کا مقصد ملک بدر کیے جانے والے افراد کی واپسی کو آسان بنانا ہے، جن میں وسطی ایشیائی ملک کے ذریعے افغانستان بھیجے جانے والے افراد بھی شامل ہوں گے۔
یورپی یونین کے ممالک ایسے ممکنہ شراکت دار ممالک تلاش کر رہے ہیں جو یونین سے باہر ہوں اور جہاں ناکام پناہ گزینوں کے لیے نام نہاد ’ریٹرن ہبز‘ قائم کیے جا سکیں، تاکہ ہجرت کو کنٹرول کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: یورپی یونین نے پاکستانی مؤقف کی حمایت کردی، افغان طالبان اور فتنۃ الخوارج کا مکروہ چہرہ بےنقاب
میڈیا رپورٹس کے مطابق تفصیلات طے ہونے تک ڈنمارک، آسٹریا، یونان، جرمنی اور نیدرلینڈز نے مارچ میں کہا تھا کہ وہ اس منصوبے پر آگے بڑھ رہے ہیں اور باہمی تعاون کو فروغ دے رہے ہیں۔
آسٹرین حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق آسٹریا کے وزرائے داخلہ اور خارجہ 7 مئی کو ازبکستان جائیں گے تاکہ ملک بدری کو آسان بنانے کے معاہدے پر دستخط کیے جا سکیں۔
Germany deports 25 Afghan nationals convicted of serious crimes https://t.co/zZJ8Lfub2l #Ariana #Afghanistan
— Eye on Afghanistan (@EyeOnAfgh) April 29, 2026
وزارتِ داخلہ کے ترجمان مارکُس ہائنڈل کے مطابق یہ معاہدہ اپنے ملک واپس بھیجے جانے والے افراد، خاص طور پر افغانستان، کے لیے ٹرانزٹ کے حوالے سے نہایت اہم ہے۔
گزشتہ سال سے آسٹریا نے متعدد افغان شہریوں کو ملک بدر کیا ہے، جو 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پہلی بار ہوا ہے۔
مزید پڑھیں: افغانستان کا مسئلہ طاقت سے حل کرسکتے ہیں مگر گھر میں گھس کر مارنا نہیں چاہتے، اسحاق ڈار کی پریس کانفرنس
آسٹریا نے کچھ شامی شہریوں کو بھی واپس شام بھیجا ہے، جہاں 2024 میں طویل عرصے سے برسرِ اقتدار رہنے والے بشار الاسد کو ہٹا دیا گیا تھا۔
گزشتہ ہفتے افغانستان میں انسانی حقوق کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ نے کہا کہ انہیں تشویش ہے کہ یورپی یونین افغانوں کی ملک بدری کے حوالے سے طالبان حکام سے بات چیت کرنے جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: افغانستان بطور عالمی دہشتگردی کا مرکز، طالبان کے بارے میں سخت فیصلے متوقع
انہوں نے خبردار کیا کہ افغانستان واپسی ’نان ریفاؤلمنٹ‘ کے اصول کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے کیونکہ وہاں انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزیاں جاری ہیں۔
یہ اصول کہتا ہے کہ مہاجرین کو ایسے ملک واپس نہیں بھیجا جانا چاہیے جہاں انہیں نقصان یا ظلم و ستم کا سامنا ہو۔
یورپی یونین ان افراد کو افغانستان واپس بھیجنے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے جنہیں بلاک میں رہنے کا حق حاصل نہیں، حالانکہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوامِ متحدہ کے مہاجرین کے ادارے نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔














