تل ابیب اور شمالی اسرائیل کے سرحدی علاقوں میں جاری کشیدگی کے دوران رپورٹ کیا گیا ہے کہ حزب اللہ نے ایک نئی ٹیکنالوجی پر مبنی ہتھیار ’فائبر آپٹک ڈرونز‘ کا استعمال شروع کر دیا ہے، جو روایتی دفاعی نظام سے بچ نکلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں:بھارتی ڈرونز کے سائے میں معرکۂ حق کا مشن کامیابی سے مکمل کرنے والے کیپٹن ارباز خان خلجی
رپورٹس کے مطابق یہ چھوٹے ڈرون انتہائی باریک فائبر آپٹک تاروں کے ذریعے کنٹرول کیے جاتے ہیں، جس کے باعث انہیں الیکٹرانک جیمنگ کے ذریعے ناکارہ بنانا ممکن نہیں رہتا۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی پہلے یوکرین جنگ میں بڑے پیمانے پر استعمال ہو چکی ہے، جہاں اسے جدید جنگی حکمتِ عملی میں اہم پیشرفت قرار دیا گیا تھا۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون کم اونچائی پر اڑتے ہیں، چھوٹے سائز کے باعث ریڈار پر مشکل سے نظر آتے ہیں اور اپنے ہدف تک خاموشی سے پہنچ سکتے ہیں۔ تاہم، ان کی کمزوری یہ ہے کہ تیز ہوا یا دیگر ڈرونز کے باعث ان کی فائبر کیبل الجھ سکتی ہے۔
ایک برطانوی دفاعی ادارے کے ماہر کے مطابق اگر درست طریقے سے استعمال کیے جائیں تو یہ ڈرون انتہائی مہلک ثابت ہو سکتے ہیں، اور انہیں روکنے کے لیے یا تو براہِ راست جسمانی طور پر تباہ کرنا ہوگا یا ان کی کیبلز کو کاٹنا ہوگا۔
اسرائیلی عسکری ذرائع کے مطابق حزب اللہ ان ڈرونز کو زیادہ تر سرحدی علاقوں اور جنوبی لبنان میں تعینات اسرائیلی فوجی اہداف کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔ بعض حملوں میں جانی نقصان بھی رپورٹ ہوا ہے، جس سے اس ٹیکنالوجی کی سنگینی واضح ہوتی ہے۔
اسرائیلی دفاعی ماہرین کے مطابق ملک کے فضائی دفاعی نظام روایتی راکٹوں اور میزائلوں کے خلاف مؤثر ہیں، تاہم چھوٹے ڈرونز خاص طور پر فائبر آپٹک ٹیکنالوجی والے ڈرونز ایک نیا اور مشکل چیلنج بن چکے ہیں۔
مزید پڑھیں:پاکستان نے دہشتگرد FAK کے 2 ڈرونز کامیابی سے مار گرائے
دوسری جانب ماہرین اسے جنگی ٹیکنالوجی کی نئی دوڑ قرار دے رہے ہیں، جہاں یوکرین اور روس کی جنگ نے اس نوعیت کے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو تیز کیا ہے، اور اب یہ رجحان مشرقِ وسطیٰ تک پہنچ چکا ہے۔













