حکومت پنجاب نے محفوظ جنگلات اور محفوظ علاقوں میں کان کنی کی اجازت دینے کا فیصلہ کر لیا، اس حوالے سے پنجاب اسمبلی نے اہم ترامیمی قوانین منظور کر لیے ہیں، جن کا مقصد معدنی وسائل کے مؤثر استعمال اور معیشت کو تقویت دینا ہے۔
حکومت پنجاب نے محفوظ جنگلات اور محفوظ علاقوں میں کان کنی کی اجازت دینے کے لیے اہم قانون سازی مکمل کر لی ہے، جس کے تحت متعلقہ قوانین میں ترامیم کی جائیں گی۔
پنجاب اسمبلی نے گزشتہ روز اس سلسلے میں تیسرا اہم مسودہ قانون منظور کیا، جس کے تحت پنجاب وائلڈ لائف (تحفظ) (ترمیم) ایکٹ 2026 کے ذریعے پنجاب وائلڈ لائف ایکٹ 1974 میں تبدیلیاں کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیے پنجاب اسمبلی: محفوظ جنگلات میں کان کنی کی اجازت دینے کے ترامیمی بل منظور
قانون کے متن کے مطابق ان ترامیم کے ذریعے جنگلاتی اور محفوظ علاقوں میں معدنی وسائل نکالنے کی راہ ہموار کی جائے گی اور کان کنی کی باقاعدہ اجازت دی جا سکے گی۔ اس سے قبل اسی نوعیت کے دو دیگر قوانین بھی منظور کیے جا چکے ہیں، جن میں جنگلات (ترمیم) ایکٹ 2026 اور پنجاب پروٹیکٹڈ ایریاز (ترمیم) ایکٹ 2026 شامل ہیں، جن کے تحت بالترتیب جنگلات ایکٹ 1927 اور پنجاب پروٹیکٹڈ ایریاز ایکٹ 2020 میں ترامیم کی جائیں گی۔
حکومتی مؤقف کے مطابق یہ تینوں قوانین پہلے کان کنی کے منصوبوں کے لیے قانونی رکاوٹ بنے ہوئے تھے، جس کے باعث جنگلاتی علاقوں میں موجود قیمتی معدنی وسائل استعمال میں نہیں لائے جا رہے تھے۔ نئے قانون کے تحت قومی اہمیت کے حامل منصوبوں کو جنگلاتی علاقوں میں معدنی سرگرمیوں کے اختیارات دیے جائیں گے، جبکہ جنگلاتی اراضی کو کان کنی کے لیے استعمال کرنے کا ایک باقاعدہ قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جائے گا۔
قانون سازی کا مقصد قومی معدنی پالیسی سے ہم آہنگی پیدا کرنا، ترقیاتی منصوبوں میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا اور غیر قانونی کان کنی کی روک تھام کے لیے ایک منظم اور ریگولیٹڈ نظام متعارف کرانا بتایا گیا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ معدنی وسائل کا مؤثر استعمال قومی معیشت، روزگار کے مواقع اور سرکاری ریونیو میں اضافے کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ غیر واضح قوانین کی وجہ سے متعدد منصوبے تعطل کا شکار تھے۔
منظور شدہ مسودہ قوانین کی حتمی منظوری اب گورنر پنجاب دیں گے، جس کے بعد ان پر عملدرآمد شروع کیا جائے گا۔














