بالی ووڈ اداکارہ سونالی باندرے نے کہا ہے کہ ان کی بیماری بروقت تشخیص ہو جاتی تو کینسر کو چوتھے مرحلے تک پہنچنے سے روکا جا سکتا تھا۔
ایک حالیہ انٹرویو میں سونالی باندرے نے 2018 میں اپنی کینسر کی تشخیص اور علاج کے تجربے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بیماری کے دوران انہیں سب سے بڑا احساس یہ ہوا کہ معاشرے میں کینسر جیسے مرض پر کھل کر بات نہیں کی جاتی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ’گل ہی نہ جانے‘: سونالی بیندرے اس مداح سے بے خبر جو ان کے لیے جھیل میں کود گیا تھا
انہوں نے بتایا کہ جب انہیں میٹاسٹیٹک (چوتھے مرحلے کا) کینسر تشخیص ہوا تو انہوں نے نیویارک میں کیموتھراپی اور سرجری سمیت طویل علاج کروایا۔ ان کے مطابق ’اگر بیماری کی ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہو جاتی تو مجھے وہ شدید مشکلات نہ جھیلنی پڑتیں جن کا سامنا کرنا پڑا‘۔
اداکارہ نے کہا کہ کینسر کے بارے میں بات کرنا ایک زمانے میں معاشرتی طور پر ممنوع سمجھا جاتا تھا اور لوگ اسے کھل کر نام لینے سے بھی گریز کرتے تھے۔ تاہم ان کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں اس حوالے سے آگاہی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا شاہد آفریدی کے سونالی باندرے سے رومانوی تعلقات رہے؟ لالہ کا دلچسپ جواب
سونالی باندرے نے کہا کہ کینسر اگر ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہو جائے تو یہ قابلِ علاج بیماری ہے اور یہ ’موت کا فیصلہ نہیں ہوتا‘۔ انہوں نے زور دیا کہ باقاعدہ طبی معائنہ اور بروقت تشخیص سے بہت سی زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اپنی بیماری کے تجربے کو عوامی سطح پر شیئر کرنے کا مقصد کینسر کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنا اور لوگوں کو وقت پر ٹیسٹ کروانے کی ترغیب دینا تھا۔
واضح رہے کہ سونالی باندرے علاج کے بعد کینسر سے صحتیاب ہو گئی ہیں اور انہوں نے اپنی کہانی شیئر کرتے ہوئے کینسر سے بچ جانے والے افراد کے لیے آگاہی پیدا کی۔












