ایران نے امریکا سے امن مذاکرات سے متعلق اپنی نئی تجویز ثالث و برادر ملک پاکستان کے حوالے کردیں۔
یہ بھی پڑھیں: امن مذاکرات: اسحاق ڈار اور دفتر خارجہ کی کوششیں قابلِ ستائش ہیں، ایرانی سفیر
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران نے جمعرات کی شام امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے اپنی تازہ تجویز کا متن پاکستان کے حوالے کیا ہے۔ تاہم اس کی مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ یہ مؤقف اختیار کر رہی ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ عملی طور پر اپریل کے اوائل میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد ختم ہو چکی ہے۔ اس مؤقف کے تحت وائٹ ہاؤس کو کانگریس سے باضابطہ منظوری لینے کی ضرورت سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے تناظر میں پاکستان کی ثالثی کی کوششیں جاری ہیں، دفتر خارجہ
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی سینیٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ جنگ بندی نے مؤثر طور پر جنگ کو روک دیا ہے۔ اس دلیل کی بنیاد پر انتظامیہ نے اب تک سنہ 1973 کے قانون کے تحت 60 دن سے زائد فوجی کارروائی کے لیے کانگریس سے منظوری حاصل نہیں کی۔
دوسری جانب جنگ بندی میں توسیع کے باوجود ایران آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت برقرار رکھے ہوئے ہے جبکہ امریکی بحریہ ایرانی آئل ٹینکرز کو سمندر تک رسائی سے روکنے کے لیے ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کو اسلام آباد میں اہم امن مذاکرات کی میزبانی پر فخر ہے، وفاقی وزیر احسن اقبال
دریں اثنا سی این بی سی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستانی حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ ایران کی تازہ پیشکش پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچائی گئی ہیں تاہم رپورٹ میں کسی آفیشل کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔














