ایران کی نئی پیشکش پر ٹرمپ غیر مطمئن، پاکستان کے ذریعے سفارتی رابطے جاری

جمعہ 1 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے امن مذاکرات کے لیے پیش کی گئی نئی تجویز پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان پاکستان کے ذریعے سفارتی رابطے جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد امن مذاکرات نے پاکستان کو عروج بخشا، اگلا مرحلہ جلد منعقد ہوگا، عظمیٰ بخاری

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے  ارنا کے مطابق ایران نے اپنی نئی تجویز کا متن جمعرات کی شام پاکستان کے حوالے کیا جو امریکا اور ایران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

بعد ازاں وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اس وقت میں ایران کی پیشکش سے مطمئن نہیں ہوں۔

انہوں نے ایرانی قیادت کو منتشر قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اندرونی مسائل کا سامنا ہے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان حال ہی میں بات چیت ہوئی ہے تاہم وہ موجودہ پیشکش سے خوش نہیں ہیں۔

مزید پڑھیے: امن کے لیے پاکستان کی کوششیں جاری، ایران امریکا حتمی مذاکرات کے کیا امکانات ہیں؟

انہوں نے یہ پیشگوئی بھی دہرائی کہ جنگ کے خاتمے کے بعد تیل اور گیس کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔

امریکی صدر نے پاکستان، وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے لیے ایک بار پھر بہت احترام کا اظہار کیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ان کے دل میں پاکستان، وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے لیے بہت احترام ہے۔

دوسری جانب دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں اور پاکستان بدستور سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔

اگرچہ پاکستان کی ثالثی میں حال ہی میں جنگ بندی ممکن ہوئی تھی تاہم مذاکرات تاحال تعطل کا شکار ہیں اور دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ حکام کے مطابق بات چیت میں پیشرفت کے لیے مزید سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کو اسلام آباد میں اہم امن مذاکرات کی میزبانی پر فخر ہے، وفاقی وزیر احسن اقبال

امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے تاہم پیش کی گئی شرائط قابل قبول نہیں۔ ان کے مطابق ایران ایسی باتوں کا مطالبہ کر رہا ہے جن سے اتفاق ممکن نہیں اسی لیے وہ اس پیشکش سے مطمئن نہیں ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی عسکری صلاحیت کمزور ہو چکی ہے اسی وجہ سے وہ معاہدے کی خواہش رکھتا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں کچھ پیشرفت ضرور ہوئی ہے لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کوئی حتمی نتیجہ نکل پائے گا۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا اور ایران کے اسلام آباد میں امن مذاکرات عالم اسلام کے لیے فخر کا باعث ہے، وزیراعظم شہباز شریف

امریکی صدر نے ایرانی قیادت میں مبینہ اختلافات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں قیادت کئی دھڑوں میں تقسیم ہے جس کے باعث مذاکراتی عمل پیچیدہ ہو گیا ہے۔ ان کے بقول ایران کی قیادت میں ہم آہنگی کا فقدان ہے اور مختلف گروپس کے درمیان اختلافات امن عمل میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے تناظر میں پاکستان کی ثالثی کی کوششیں جاری ہیں، دفتر خارجہ

سی این بی سی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستانی حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ ایران کی تازہ پیشکش پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچائی گئی تاہم فریقین کے درمیان اختلافات بدستور برقرار ہیں اور حتمی معاہدہ تاحال غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp