سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن نے اعتراف کیا ہے کہ کراچی کا بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) ریڈ لائن منصوبہ صوبائی حکومت کے لیے ایک کڑا امتحان ثابت ہوا ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سندھ حکومت کی جانب سے اس میں کوئی کوتاہی یا تاخیر نہیں کی گئی۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ پرانے ٹھیکیداروں کو وارننگ دینے اور ان کے کلیمز کلیئر کرنے کے بعد سندھ حکومت نے پرانا معاہدہ منسوخ کر دیا ہے۔ اب عوام کی مشکلات کو ہنگامی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے یونیورسٹی روڈ کی تعمیرِ نو کا کام فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے حوالے کردیا گیا ہے، جسے 90 روز میں مکمل کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:بجٹ 24-2023: کے فور، گرین لائن سمیت مختلف منصوبوں کے لیے اربوں روپے مختص
انہوں نے کہا کہ حکومت دن رات کام کر رہی ہے اور کوشش ہے کہ جولائی کے آخر تک اس سڑک کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے تاکہ عوام کو مزید اذیت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
سینئر وزیر نے واضح کیا کہ یونیورسٹی روڈ کی تعمیرِ نو کا کام سندھ حکومت اپنے فنڈز سے کر رہی ہے، جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے تعاون سے بننے والے اصل بی آر ٹی کوریڈور کے لیے دوبارہ ٹینڈرنگ سمیت ضروری قانونی کارروائی کی جائے گی۔
واضح رہے کہ تاخیر کا شکار ہونے والے اس منصوبے کی تکمیل کا ہدف اب 2028 تک بڑھا دیا گیا ہے۔
دوسری جانب، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے علی الصبح جیل چورنگی سے نیپا تک بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کا اچانک دورہ کیا۔ انہوں نے تعمیراتی کام، نکاسی آب اور ٹریفک مینجمنٹ کا جائزہ لیا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں دہائیوں بعد ڈبل ڈیکر بس کا افتتاح، سفر کا کرایہ کتنا ہوگا؟
وزیر اعلیٰ نے متعلقہ محکموں اور ٹھیکیداروں کو کام کی رفتار تیز کرنے، معیار کو یقینی بنانے اور موسمیات فلائی اوور پر باقی ماندہ کام فوری شروع کرنے کی ہدایت کی تاکہ اسے جلد از جلد ٹریفک کے لیے کھولا جا سکے۔
اس کے علاوہ، وزیر اعلیٰ سندھ نے جام صادق انٹرچینج سے ایم-9 کاٹھور انٹرچینج تک 38 کلومیٹر طویل ‘شاہراہِ بھٹو’ منصوبے کا بھی جائزہ لیا، جو 93 فیصد تک مکمل ہو چکا ہے۔
اس منصوبے کو 30 جون 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ مراد علی شاہ نے اس شاہراہ کو کراچی کی معیشت کے لیے ایک ‘لائف لائن’ اور شہریوں کے لیے ایک بہترین تحفہ قرار دیا۔














