سندھ کے دارالحکومت کراچی سمیت ملک کے جنوبی حصے شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں جہاں پیر کے روز پارہ 44 ڈگری سینٹی گریڈ کو چھوگیا۔
محکمہ موسمیات نے اپنی یومیہ ایڈوائزری میں خبردار کیا ہے کہ رواں ہفتے ملک کے جنوبی حصوں میں موسم شدید گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے۔ ماہرین کے مطابق مئی کے مہینے میں ملک بھر میں اوسط درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کی توقع ہے جس سے پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے میدانی علاقوں میں ہیٹ ویو کی شدت میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی درجہ حرارت میں ایک ڈگری کی کمی ثقافتی ورثے کو تباہی سے بچا سکتی ہے، یونیسکو
عالمی ادارہ صحت کے مطابق شدید گرمی کے باعث دل، سانس، گردوں اور ذیابیطس جیسے امراض میں مبتلا افراد کے لیے صحت کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ ہیٹ اسٹروک کی بڑی علامات میں سانس لینے میں دشواری، دل کی دھڑکن کا تیز ہونا، قے، چکر آنا، اور جلد کا شدید گرم ہو کر پسینہ آنا بند ہوجانا شامل ہیں۔
شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دن کے گرم ترین اوقات میں باہر جانے اور سخت مشقت والے کاموں سے گریز کریں۔ دھوپ میں نکلتے وقت سائے میں رہیں، ہلکے اور ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہنیں اور سر کو ڈھانپنے کے لیے ہیٹ یا چھتری کا استعمال کریں۔
یہ بھی پڑھیں: گرمی کی لہر پھر سر اٹھانے لگی، جنوبی علاقوں میں پارہ مزید بلند ہونے کا امکان
خود کو ہائیڈریٹ رکھنے کے لیے دن بھر میں کم از کم 2 سے 3 لیٹر پانی پینا انتہائی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ گھروں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے دن کے وقت کھڑکیوں کو پردوں سے ڈھانپ کررکھیں اور رات کے وقت ٹھنڈی ہوا کے لیے انہیں کھول دیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیٹ اسٹروک کی صورت میں فوری طور پر ایمرجنسی طبی امداد طلب کی جائے اور متاثرہ شخص کے جسم کو ٹھنڈا کرنے کے لیے گیلے کپڑے یا دیگر دستیاب ذرائع کا استعمال کیا جائے۔














