پلوٹو سے آگے پراسرار دنیا، سورج سے 6 ارب کلومیٹر دور یہ برفانی بستی کیسی ہوگی؟

پیر 4 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جاپانی ماہرینِ فلکیات نے دعویٰ کیا ہے کہ پلوٹو سے بھی آگے ایک چھوٹی اور کم معروف برفانی دنیا میں ممکنہ طور پر ایک انتہائی باریک فضا (ماحول) موجود ہو سکتی ہے جو اب تک کے سائنسی تصورات کو چیلنج کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟

اگر اس کی تصدیق ہو جاتی ہے تو تقریباً 500 کلومیٹر چوڑی یہ چٹانی دنیا نظام شمسی میں نیپچون کے بعد دوسری ایسی شے بن جائے گی جس کے گرد ماحول پایا جاتا ہے، پہلی پلوٹو ہے۔

پلوٹو کو سنہ 2006 میں سیارے کی حیثیت سے ہٹا کر بونے سیارے ’بونا سیارے‘ کا درجہ دیا گیا تھا کیونکہ اسی دور میں کوپر بیلٹ میں اس جیسے کئی چھوٹے اجسام دریافت ہو رہے تھے۔ تاہم اب امریکی خلائی ادارے ناسا کے تحت پلوٹو کو دوبارہ سیارے کا درجہ دینے کی بحث بھی جاری ہے۔

نئی تحقیق کے مطابق جاپانی محققین اور ایک شوقیہ فلکیات دان نے جس کمیت پر تحقیق کی وہ ’(612533) 2002 XV93”‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ یہ برفانی دنیا زمین سے سورج کے مقابلے میں تقریباً 40 گنا زیادہ فاصلے پر موجود ہے، یعنی تقریباً 6 ارب کلومیٹر دور۔

یہ اجسام عام طور پر صرف اس وقت نظر آتے ہیں جب یہ کسی دور دراز ستارے کے سامنے سے گزرتے ہیں۔ جنوری 2024 میں ایسے ہی ایک مشاہدے کے دوران سائنسدانوں نے دیکھا کہ ستارے کی روشنی فوری طور پر واپس نہیں آئی جس سے اندازہ ہوا کہ کوئی باریک فضا روشنی کو متاثر کر رہی ہے۔

مزید پڑھیے: ٹی او آئی-5205 بی نامی منفرد سیارے کی فضا نے سائنسدانوں کو حیران کیوں کر دیا؟

تحقیق کے مطابق یہ ممکنہ ماحول زمین کے مقابلے میں 50 لاکھ سے ایک کروڑ گنا زیادہ پتلا ہو سکتا ہے۔ نیشنل آسٹرونومیکل آبزرویٹری آف جاپان کے سائنسدان کو آرِماتسو نے کہا کہ یہ دریافت اہم ہے کیونکہ اب تک پلوٹو ہی واحد ٹرانس نیپچونین شے تھی جس کے گرد ماحول ثابت ہوا تھا۔

سائنسدانوں کے مطابق یہ دریافت اس نظریے کو چیلنج کرتی ہے کہ بیرونی نظامِ شمسی کے برفانی اجسام غیر فعال اور غیر تبدیل ہونے والے ہوتے ہیں۔

ماہرین نے اس ماحول کی ممکنہ وجوہات میں آتش فشانی برف سے گیس کا اخراج یا کسی دمدار ستارے کے ٹکرانے کو شامل کیا ہے تاہم یہ فضا اتنی کمزور ہے کہ زندگی کے لیے موزوں نہیں۔

کچھ ماہرین نے اس دریافت پر احتیاط کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ماحول نہیں بلکہ کسی قسم کی حلقہ نما ساخت (رنگ) ہو۔ تاہم تحقیق کرنے والے سائنسدان کا کہنا ہے کہ موجودہ مشاہدات اس خیال کی مکمل تائید نہیں کرتے۔

مزید پڑھیں: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں

ماہرین نے مزید مشاہدات کی ضرورت پر زور دیا ہے خاص طور پر جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے ذریعے تاکہ اس پراسرار دنیا کے بارے میں مزید حقائق سامنے آ سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp