صومالیہ کے ساحل کے قریب اغوا کیے گئے ایک آئل ٹینکر پر سوار پاکستانیوں سمیت عملے کو خوراک اور پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے، جس پر ایک انسانی حقوق تنظیم نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
عرب نیوز کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صومالیہ کے ساحل کے قریب اغوا کیے گئے آئل ٹینکر MT Honor 25 پر سوار عملے میں شامل دس پاکستانی شہری خوراک اور پینے کے پانی کی بڑھتی ہوئی قلت کا سامنا کر رہے ہیں، جس پر ایک انسانی حقوق تنظیم نے پیر کے روز شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یہ آئل ٹینکر 21 اپریل کو صومالیہ کے ساحل کے قریب اغوا کیا گیا تھا۔ جہاز کے کثیرالقومی عملے میں 10 پاکستانیوں کے علاوہ چار انڈونیشین، جبکہ بھارت، سری لنکا اور میانمار سے ایک، ایک شہری شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیے صومالی قذاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کی زندگیاں خطرے میں، متاثرہ خاندانوں کی دہائی، حکومت کی سفارتی کوششیں تیز
پاکستانی انسانی حقوق تنظیم انصار برنی ٹرسٹ انٹرنیشنل، جس نے جہاز کو اغوا کرنے والے صومالی قزاقوں سے رابطہ قائم کیا ہے، کا کہنا ہے کہ اگرچہ عملہ فی الحال محفوظ ہے، تاہم جہاز پر انسانی صورتحال تیزی سے خراب ہو رہی ہے۔
تنظیم کے چیئرمین انصار برنی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا، ’اس وقت وہ محفوظ ہیں، لیکن اگر فوری طور پر خوراک اور طبی امداد فراہم نہ کی گئی تو صورتحال سنگین ہو سکتی ہے۔‘
ان کے مطابق ٹرسٹ کے ایک رکن نے قزاقوں اور پاکستانی عملے دونوں سے بات چیت کی ہے۔ انہوں نے حکومتِ پاکستان سے اپیل کی کہ ملاحوں کی رہائی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
عرب نیوز کو فراہم کی گئی ایک آڈیو ریکارڈنگ میں، جو ٹرسٹ کی شاہین برنی اور قزاقوں کے نمائندے کے درمیان گفتگو پر مبنی ہے، قزاق نمائندہ پاکستانی حکومت پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کرتا سنائی دیتا ہے تاکہ ان سے مذاکرات کیے جا سکیں۔
مزید پڑھیں: صومالیہ کی تعاون کی یقین دہانی، یرغمال پاکستانیوں کی بحفاظت واپسی کے لیے اقدامات تیز
قزاقوں کے نمائندے کے مطابق عملے کو روزانہ صرف ایک وقت کا کھانا دیا جا رہا ہے جبکہ پینے کا پانی ختم ہو چکا ہے۔ جہاز اس وقت نیم خودمختار علاقے پنٹ لینڈ کے شہر ایل کے قریب لنگر انداز ہے۔
دوسری جانب پاکستانی حکومت نے اس سے قبل کہا تھا کہ وہ جبوتی میں اپنے سفارت خانے کے ذریعے صورتحال کی نگرانی کر رہی ہے اور صومالی حکام اس معاملے میں تعاون کر رہے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں میڈیا کو بتایا تھا کہ صومالی وزارت خارجہ سے رابطوں کی بنیاد پر یہ یقین کیا جا سکتا ہے کہ پاکستانی عملہ محفوظ ہے۔
تاہم حکومتی موقف سے مغوی ملاحوں کے اہل خانہ کی تشویش کم نہیں ہو سکی۔
گزشتہ ہفتے ایک پاکستانی ملاح سید حسین یوسف کے اہل خانہ نے شدید پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی 12 سالہ بیٹی معصومہ نے والد کے اغوا کے بعد اسکول جانا چھوڑ دیا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستانی صومالی بحری قزاقوں کی قید میں، حکومت پاکستان کی سفارتی کوششیں، مغویوں نے اہلخانہ کو کیا بتایا؟
یوسف کی اہلیہ آمنہ نے بتایا، ’ہم بہت مشکلات کا شکار ہیں، اور مجھے نہیں معلوم کہ میرے شوہر وہاں کس حال میں ہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے شوہر نے مختصر رابطے میں بتایا تھا کہ جہاز پر راشن ختم ہو چکا ہے۔
اپنے والد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے معصومہ نے حکام سے اپیل کی، ’میں آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ میرے والد کو بحفاظت واپس لے آئیں۔‘














