سندھ میں موٹر سائیکل فیول سبسڈی پروگرام میں 31 مئی تک توسیع

منگل 5 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سندھ حکومت نے پیپلز موٹر سائیکل فیول سبسڈی پروگرام میں 31 مئی تک توسیع کرتے ہوئے اس مد میں 2 ارب روپے جاری کرنے کی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی زیر صدارت منعقدہ صوبائی کابینہ کے اہم اجلاس میں ترقیاتی منصوبوں، شہری سہولیات اور انتظامی اصلاحات سے متعلق متعدد بڑے فیصلوں کی منظوری دی گئی۔

کابینہ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ اب تک 5 لاکھ 48 ہزار سے زائد افراد اس پروگرام سے مستفید ہو رہے ہیں جبکہ 1.096 ارب روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی بحران کے دوران عوام کے لیے ریلیف، سندھ حکومت نے سبسڈی پروگرام کی تفصیلات جاری کردیں

ترجمان سندھ حکومت کے مطابق، موٹر سائیکل کیب سروسز کے لیے سیلز ٹیکس 5 فیصد سے کم کر کے 2 فیصد کر دیا گیا، جس سے آن لائن ڈرائیورز کو ریلیف ملے گا۔

اسی طرح کابینہ نے کراچی میں سڑکوں کی بحالی کے لیے 6.5 ارب روپے کی منظوری دیتے ہوئے مرمت کا کام فوری شروع کرنے اور فنڈز جلد جاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔

کابینہ اجلاس میں دریائے سندھ پر حیدرآباد اور کوٹری کے درمیان نئے پل کے ڈیزائن کی بھی منظوری دی، جس کے بارے میں وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ یہ پل اندرونِ ملک ٹریفک کی روانی بہتر بنانے اور سفری سہولت میں اضافے کا باعث بنے گا۔

مزید پڑھیں: سندھ کابینہ کا کفایت شعاری اور ایندھن بچت پلان منظور، معاشی دباؤ کے پیش نظر اہم فیصلے

عدالتی نظام کی بہتری کے لیے اہم اقدامات کرتے ہوئے ضلعی عدالتوں کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے 48.9 ملین روپے مختص کیے گئے جبکہ مورو میں 4 نئی عدالتوں کی تعمیر کے لیے 432.597 ملین روپے کی منظوری دی گئی۔

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ اقدامات عدالتی نظام کو جدید بنانے اور عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے، اسی سلسلے میں دادو میں پیر الٰہی بخش لا کالج کے لیے 25 ملین روپے گرانٹ بھی منظور کی گئی۔

ترجمان سندھ حکومت کے مطابق کابینہ اجلاس میں صحت کے شعبے پر بھی توجہ دیتے ہوئے ہدایت کی گئی کہ سکھر ٹراما سینٹر کو جون 2026 تک فعال بنایا جائے۔

مزید پڑھیں: پارلیمنٹ کا سندھ حکومت سے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کی فوری مدد کا مطالبہ

انسداد تجاوزات کے حوالے سے شہید بینظیر آباد ڈویژن میں ٹریبونل کے قیام کی منظوری دی گئی، جو سندھ پبلک پراپرٹی ایکٹ 2010 کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنائے گا۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ سندھ ہائیکورٹ سے مشاورت کے بعد پریزائیڈنگ آفیسر کی تقرری کا عمل جلد شروع کیا جائے، جبکہ آئندہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں اس کے لیے فنڈز مختص کیے جائیں گے۔

کراچی میں میگا قبرستان کے قیام کے لیے 500 ایکڑ زمین مختص کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔ یہ زمین ضلع ملیر کے دیہہ میٹھا گھر میں مختص کی جائے گی اور محکمہ بلدیات کے حوالے کی جائے گی۔

مزید پڑھیں: سندھ حکومت نے تعلیمی بورڈز میں نمبر سسٹم ختم کر کے گریڈنگ سسٹم نافذ کر دیا

توانائی کے شعبے میں سندھ الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کو فعال بنانے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ فیصل ملک کو ممبر فائنانس اینڈ پالیسی مقرر کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔

اجلاس میں سیس ترمیمی ایکٹ 2026 کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا، جس کے تحت 132 درخواست گزاروں نے تصفیہ معاہدوں پر دستخط کیے جبکہ 18 ارب روپے سے زائد کی بینک گارنٹیز کیش ہو چکی ہیں۔

انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سندھ پروٹیکشن آف ہیومن رائٹس (ترمیمی) بل 2026 کو اسمبلی کو بھجوا دیا گیا۔

مزید پڑھیں: بی آر ٹی ریڈ لائن ایک انتہائی مشکل منصوبہ، سندھ حکومت کی جانب سے کوئی تاخیر نہیں ہوئی: شرجیل میمن

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ بل کارپوریٹ زیادتیوں کے خلاف مؤثر اقدامات یقینی بنائے گا اور متاثرین کو فوری انصاف فراہم کرے گا۔

مذکورہ بل کے تحت چیئرپرسن اور اراکین کی مدت 4 سے بڑھا کر 5 سال کر دی گئی ہے اور سابق ججز کو چیئرپرسن مقرر کرنے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp