امریکی محکمہ خارجہ نے پشاور میں قائم اپنے قونصل خانے کو مرحلہ وار بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے سفارتی سرگرمیاں اسلام آباد منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جسے سیکیورٹی اور وسائل کے بہتر استعمال سے جوڑا جا رہا ہے۔
بدھ کے روز جاری بیان میں کہا گیا کہ خیبر پختونخوا سے متعلق سفارتی روابط کی ذمہ داری اب اسلام آباد میں قائم امریکی سفارت خانے کے سپرد ہوگی۔ محکمہ خارجہ کے مطابق یہ فیصلہ سفارتی عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے اور وسائل کے مؤثر استعمال کے عزم کا عکاس ہے۔
یہ بھی پڑھیے پشاور میں امریکی قونصل خانہ مستقل بند کرنے کا فیصلہ، وجہ کیا ہے؟
بیان میں مزید کہا گیا کہ پشاور میں امریکی موجودگی کی نوعیت تبدیل ہونے کے باوجود پاکستان سے متعلق امریکی پالیسی ترجیحات میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ امریکا خیبر پختونخوا کے عوام اور حکام کے ساتھ روابط جاری رکھتے ہوئے معاشی تعاون کو فروغ دینے، علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانے اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کام کرتا رہے گا۔
The @StateDept has announced the phased closure of the U.S. Consulate General in Peshawar. As we transition to a new chapter, with the U.S. Consulate General’s operations shifting to @USEmbIslamabad, we will continue our important diplomatic work in partnership with the people…
— Bureau of South and Central Asian Affairs (SCA) (@State_SCA) May 6, 2026
محکمہ خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان میں امریکی مشن کے ذریعے اسلام آباد، کراچی اور لاہور میں موجود دیگر سفارتی دفاتر کے ذریعے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کا عمل جاری رکھا جائے گا۔
اس سے قبل مارچ میں برطانوی جریدے ’دی انڈیپنڈنٹ‘ نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکی محکمہ خارجہ نے کانگریس کو قونصل خانے کی بندش سے متعلق آگاہ کر دیا ہے، جس سے سالانہ تقریباً 75 لاکھ ڈالر کی بچت متوقع ہے، جبکہ پاکستان میں امریکی مفادات کے فروغ پر اس کا کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیے پاکستان میں مقیم امریکی شہریوں کے لیے سیکیورٹی الرٹ جاری
رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ ایک سال سے زیر غور تھا اور اسے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں وفاقی اداروں کے حجم میں کمی کی پالیسی کا حصہ قرار دیا گیا، جبکہ اس کا ایران سے جنگی صورتحال سے براہ راست تعلق نہیں بتایا گیا۔
دوسری جانب 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائی کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاج بھی دیکھنے میں آیا۔ مارچ میں کراچی میں امریکی قونصل خانے کو اس وقت عارضی طور پر بند کرنا پڑا تھا جب مظاہرین نے بیرونی دیوار عبور کرنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ احتجاج ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد بھڑکا تھا۔














