پشاور میں امریکی قونصل خانہ مستقل بند کرنے کا فیصلہ، وجہ کیا ہے؟

جمعرات 12 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا نے پشاور میں قائم اپنے قونصل خانے کو مستقل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹورنٹو میں امریکی قونصل خانے پر فائرنگ، دہشتگردی کا شبہ، تحقیقات جاری

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے اس حوالے سے کانگریس کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پشاور میں قونصل خانے کی بندش سے سالانہ تقریباً 75 لاکھ ڈالر کی بچت متوقع ہے جبکہ اس اقدام سے پاکستان میں امریکی قومی مفادات کے فروغ یا سفارتی سرگرمیوں پر کوئی نمایاں منفی اثر نہیں پڑے گا۔

رپورٹس کے مطابق امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ قونصل خانے کو بند کرنے کے فیصلے کا خطے میں جاری ایران سے متعلق کشیدگی یا کسی ممکنہ جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

پشاور میں امریکی قونصل خانے میں تعینات ایک اسٹاف رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کچھ معلومات شیئر کیں۔

مزید پڑھیے: پاکستانی مہمان نوازی سے متاثر امریکی قونصل جنرل کی مزارِ قائد حاضری

اسٹاف رکن نے وی نیوز کو بتایا کہ قونصل خانے کی بندش کے حوالے سے ابھی تک باقاعدہ طور پر کچھ نہیں بتایا گیا تاہم خبروں سے انہیں بھی پتا چلا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ٹرمپ کے آنے کے بعد بچت اور اخراجات کم کرنے کی مہم کے تحت اس قونصل خانے کو بند کرنے کے حوالے سے بات زیر غور تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ البتہ فوری طور پر اخراجات کو کم کرنے کے لیے فیصلے پر عمل درآمد کیا گیا ہو۔

انہوں نے بتایا کہ ایران پر حملے کے بعد پاکستان میں امریکی سفارتی مشن کے دفاتر کے باہر مظاہرے ہوئے تھے اور کراچی میں پرتشدد مظاہرے بھی ہوئے تھے جس کے باعث عارضی طور پر پبلک ڈیلنگ بند کر دی گئی تھی تاہم پشاور مشن کی بندش کا ان مظاہروں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت کوئی بھی فیصلہ جلد بازی میں نہیں کرتی، یہ کافی عرصے سے زیر غور تھا اور اب جا کر فیصلہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مشن میں کام کب سے بند ہوگا اس کی ابھی تک کوئی حتمی ٹائم لائن طے نہیں ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مشن میں امریکیوں سمیت تقریباً 100 ملازمین کام کر رہے تھے جبکہ مقامی ملازمین کے ساتھ کیا ہوگا یہ ابھی تک واضح نہیں ہے۔

اسٹاف رکن کے مطابق پشاور مشن کا کردار سنہ 2001 سے افغانستان کے حوالے سے انتہائی اہم تھا اور یہ بنیادی طور پر سیاسی اور اقتصادی امور اور عوامی سفارتکاری کے کام دیکھتا تھا۔ اس میں عوامی رابطہ، میڈیا آؤٹ ریچ، علاقائی انگریزی زبان کے پروگرام، امریکن اسپیس سرگرمیاں، تبادلہ پروگرام، گرانٹس کی نگرانی اور پاکستان و افغانستان کے درمیان تجارتی روابط میں سہولت فراہم کرنا شامل تھا۔

مزید پڑھیں: ایرانی حملے کے بعد ریاض میں قائم امریکی سفارت خانہ بند، امریکی شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت

انہوں نے کہا کہ افغان سرحد کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے پشاور قونصل خانہ طویل عرصے تک افغانستان کے قریب ترین امریکی سفارتی چوکی کے طور پر کام کرتا رہا اور سنہ 2001 سے قبل اور بعد میں آپریشنز اور لاجسٹکس کے ایک اہم مرکز کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔

پشاور میں قائم امریکی قونصل خانہ طویل عرصے سے افغان سرحد کے قریب امریکا کے اہم سفارتی مشنز میں شمار ہوتا رہا ہے اور خطے میں سفارتی اور قونصلر سرگرمیوں کے حوالے سے اس کی خاص اہمیت رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فاطمہ ثنا کی عالمی کرکٹ میں دھوم، کینیڈا سپر 60 کی فرنچائز سے معاہدہ

ماہرین آثارِ قدیمہ کا موئن جو دڑو میں نئی تحقیق اور شہر کی فصیل کی نقل تعمیر کرنے کا مطالبہ

ورلڈ کپ کے اہم معرکے سے قبل قومی ہاکی ٹیم کی قیادت میں بڑی تبدیلی، عماد شکیل بٹ کو کپتانی سے ہٹا دیا گیا

بی جے پی رہنما کی بیٹی نے بھارتی نوجوانوں کے احتجاج کی حمایت کی وجہ بتا دی

دوران سفر متلی کی شکایت: ازالے کے لیے آئی فون کی ایک خفیہ سیٹنگ استعمال کرکے دیکھیں

ویڈیو

جسٹن گریوز نے ٹیسٹ کرکٹ میں منفرد عالمی ریکارڈ قائم کرلیا، ’سہولت کار‘ پاکستان ٹیم

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن پھر آمنے سامنے، آخر اس لڑائی کی وجہ کیا ہے؟

اسحاق ڈار اور کویتی وزیر خارجہ کے درمیان اہم ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

کالم / تجزیہ

ایک اور میچ، ایک اور شکست، اب تو عادت سی ہے ہم کو!

اے ٹی ایم مشین 

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی