’کسی سے متاثر نہیں ہوا تھا، ایف ایس سی کے بعد ہی سی ایس ایس کی تیاری شروع کر دی تھی اور مسلسل محنت کے نتیجے میں پہلی ہی کوشش میں صوبے میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔‘
یہ کہنا ہے خیبر پختونخوا کے پسماندہ ضلع بونیر سے تعلق رکھنے والے حضرت بلال کا، جنہوں نے سی ایس ایس کے حالیہ نتائج میں نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے صوبے بھر میں پہلی جبکہ پورے پاکستان میں 18ویں پوزیشن حاصل کی۔
دبلے پتلے حضرت بلال کے گھر جشن کا سماں ہے اور علاقے کے لوگ، دوست احباب اور رشتہ دار انہیں مبارک باد دینے آ رہے ہیں۔
حضرت بلال کون ہیں؟
حضرت بلال کا تعلق ضلع بونیر کے ایک دورافتادہ گاؤں سے ہے۔ ان کے والد بونیر کے ڈپٹی کمشنر آفس میں نائب قاصد ہیں۔ بلال کے مطابق ان کے علاقے میں صرف 2 اسکول ہیں، جہاں سے انہوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ میٹرک کے بعد انہوں نے بونیر کے سرکاری کالج سے ایف ایس سی کی۔ بعد ازاں پشاور کی تاریخی اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں شعبۂ انگریزی میں داخلہ لیا اور گولڈ میڈل کے ساتھ ڈگری مکمل کی۔
’سی ایس ایس کے لیے صرف محنت کی، کسی سے متاثر ہو کر نہیں‘
حضرت بلال کے مطابق مقابلے کے امتحان میں ان کی کامیابی مسلسل محنت کا نتیجہ ہے، جس کا آغاز انہوں نے ایف ایس سی کے زمانے میں ہی کر دیا تھا۔
انہوں نے کہا، ’جب میں بونیر میں ایف ایس سی کر رہا تھا، تب ہی مقابلے کا امتحان دینے کا فیصلہ کر لیا تھا اور اسی وقت سے سی ایس ایس کی تیاری بھی شروع کر دی تھی۔ یہ کوئی اچانک فیصلہ نہیں تھا، بلکہ ایف ایس سی سے ہی اس مقصد کے لیے مسلسل پڑھائی کر رہا تھا۔‘
یہ بھی پڑھیے سی ایس ایس امتحان میں کشمیری خواتین کی شاندار کامیابی، مرد امیدوار پیچھے رہ گئے
وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کسی سے متاثر ہو کر سی ایس ایس کا انتخاب نہیں کیا۔ ان کے مطابق ایف ایس سی سے لے کر ماسٹرز تک تعلیم کے ساتھ ساتھ تیاری بھی جاری رکھی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پہلی ہی کوشش میں کامیابی حاصل ہو گئی۔
حضرت بلال نے بتایا کہ انہیں انتظامی امور میں خاص دلچسپی تھی اور اسی شوق اور محنت کی بدولت وہ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (پی اے ایس) کے لیے منتخب ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ جس دن نتائج آئے، وہ طبیعت خراب ہونے کے باعث ڈاکٹر کے پاس گئے ہوئے تھے، لیکن جیسے ہی نتائج دیکھے تو خوشی سے بیماری بھی بھول گئے۔
یہ بھی پڑھیے سی ایس ایس میں زبردست کامیابی، کوئٹہ کی معصومہ مغل نے یہ کام کیسے کیا؟
’میں نے فوراً والد صاحب اور گھر والوں کو فون کر کے خوشخبری سنائی۔‘ انہوں نے بتایا۔
حضرت بلال کے والد، جو ڈپٹی کمشنر آفس میں ملازم ہیں، نے بتایا کہ بیٹے کی کامیابی کی خبر سن کر ان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے۔ ان کے مطابق پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے اور سرکاری اداروں سے تعلیم حاصل کرنے کے باوجود صوبے میں پہلی پوزیشن حاصل کرنا ان کے لیے باعثِ فخر ہے۔
بلال کا کہنا ہے کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ اپنے علاقے اور پاکستان کی خدمت کریں، اور اسی جذبے کے تحت وہ سول سروس میں شمولیت کے لیے تیار ہیں۔












