ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ آج معرکہ حق کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے جو پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے، اور انہوں نے پاکستان کی سلامتی و خود مختاری کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطے جاری رکھے، جن میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی بات چیت شامل ہے۔
مزید پڑھیں: معرکہ حق: انٹیلیجنس اور ڈرون صلاحیت نے جنگ میں اہم کردار ادا کیا، وزیر داخلہ محسن نقوی کی پریس کانفرنس
ترجمان کے مطابق شہباز شریف نے ایک حالیہ بیان میں آپریشن فریڈم کے روکے جانے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یوگنڈا میں گرفتار 85 پاکستانیوں کو فی کس 400 ڈالر جرمانہ ادا کرکے وطن واپس لایا گیا ہے، یہ افراد ویزا قوانین کی خلاف ورزی پر گرفتار ہوئے تھے۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان جنوبی ایشیا میں امن کو اہمیت دیتا ہے اور بین الاقوامی شراکت دار بھی خطے کے استحکام کو ضروری سمجھتے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ بعض اوقات دہلی سے اشتعال انگیز بیانات سامنے آتے ہیں، تاہم پاکستان کا مؤقف ہمیشہ بین الاقوامی قانون کے مطابق ہوتا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں سہولت کاری کر رہا ہے اور جلد پیشرفت کی امید ہے۔ انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ انہیں نہیں معلوم معاہدہ ایک صفحے کا ہوگا یا دو کا، یہ ’فونٹ‘ پر بھی منحصر ہے۔
طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں پاکستان کے مختلف خارجی مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اپنی سہولت کاری کا کردار جاری رکھے ہوئے ہے اور دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ بھی پاکستان کے… pic.twitter.com/eN8WMOx65u
— WE News (@WENewsPk) May 7, 2026
صومالیہ میں قزاقوں کے پاس موجود 10 پاکستانیوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان کی رہائی کے لیے کوششیں جاری ہیں جبکہ ان کی حفاظت کو یقینی بنایا گیا ہے، اور صومالی حکومت سے بھی رابطہ ہے۔
بھارت کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان جنگ یا تصادم نہیں چاہتا بلکہ مذاکرات کا حامی ہے، تاہم جارحیت کی صورت میں بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے سمیت تمام آپشنز زیر غور ہیں۔
افغانستان سے متعلق سوالات پر ترجمان نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں بعض مقامی معاہدے خوش آئند ہیں، تاہم پاکستان کا بنیادی مسئلہ افغان سرزمین کا دہشتگردی کے لیے استعمال ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلقات کی بہتری اسی وقت ممکن ہے جب اس مسئلے پر واضح ضمانت دی جائے۔
مزید پڑھیں: معرکہ حق کا ایک سال: وزارت اطلاعات کے زیراہتمام کتاب ’دی بیٹل آف ٹروتھ‘ کی رونمائی
بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز صورتحال پر قابو پانے کے لیے متحرک ہیں اور بیرونی سہولت کاروں کے خلاف عالمی سطح پر آواز اٹھائی جا رہی ہے۔
انہوں نے بھارت کی جانب سے اسلحہ خریداری پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان اپنی قابلِ اعتماد دفاعی صلاحیت برقرار رکھے گا۔
دفتر خارجہ نے متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کی واپسی سے متعلق بتایا کہ مختلف کیسز انفرادی طور پر دیکھے جا رہے ہیں اور اس میں کوئی سیاسی پہلو شامل نہیں۔











