اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ’معرکہ حق‘ میں پاکستان کی کامیابی صرف فضائیہ، بحریہ اور دیگر فورسز کی نہیں بلکہ انٹیلیجنس اداروں کی بروقت اور درست معلومات کا بھی بڑا کردار تھا۔
پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے جنگ کے دوران انتہائی اہم اور بروقت معلومات فراہم کیں، جن کی بنیاد پر پیشگی تیاری ممکن ہوئی۔ ان کے مطابق یہ معلومات تقریباً مکمل طور پر درست ثابت ہوئیں، جس سے آپریشنز کے نتائج بہت بہتر آئے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد میں 3 روزہ تبلیغی اجتماع جاری، وزیر داخلہ محسن نقوی کی مرکز آمد اور سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ
انہوں نے کہا کہ اس جنگ میں ڈرون حملوں نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق دشمن نے مختلف چھوٹے اور درمیانے سائز کے ڈرونز کے ذریعے مختلف علاقوں میں حملے کرنے کی کوشش کی، تاہم پاکستان نے مؤثر دفاعی حکمت عملی سے انہیں ناکام بنایا۔
وفاقی وزیر کے مطابق اس دوران دشمن کی جانب سے بڑے پیمانے پر ڈرون سرگرمیاں دیکھی گئیں، جس سے خطے میں خوف و ہراس کی صورتحال بھی پیدا ہوئی، تاہم پاکستان نے اپنے دفاعی نظام کو مؤثر طریقے سے استعمال کیا۔
Interior Minister Mohsin Naqvi stated that intelligence agencies played a crucial role in Operation Marka-e-Haq, Pakistan had advance knowledge of Indian plans. He said India launched drone attacks and targeted around 100 Pakistani border posts, while asserting that Pakistan… pic.twitter.com/z3kYffNOVB
— Pakistan TV (@PakTVGlobal) May 7, 2026
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکمت عملی کا مقصد صرف دفاع تھا اور کسی بھی مرحلے پر شہری آبادی یا سویلین مقامات کو نشانہ بنانے کی کوشش نہیں کی گئی۔
محسن نقوی نے مزید کہا کہ پوری جنگ کے دوران پاکستان کی توجہ صرف اپنے دفاعی نظام، تنصیبات اور قومی سلامتی کے تحفظ پر رہی، اور تمام اداروں نے مل کر بہترین ہم آہنگی کے ساتھ کام کیا۔
انہوں نے کہا کہ “معرکہ حق” میں حاصل ہونے والی کامیابی قومی اتحاد، پیشہ ورانہ مہارت اور جدید دفاعی صلاحیتوں کا نتیجہ ہے، جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔
یہ بھی پڑھیں:’حکومت نے ٹیکس وصولی کا نیا طریقہ متعارف کرایا ہے‘، محسن نقوی کی اپیل سوشل میڈیا پر مذاق کیوں بنی؟
محسن نقوی نے کہا کہ ہماری رینجرز جو بارڈر کے بالکل ساتھ ہوتی ہیں، انہوں نے کئی دنوں تک پاکستان میں داخل ہونے والے ڈرونز کو گرا دیا۔ آپ کے سامنے ہے کہ جن کے پاس اور کچھ نہیں تھا وہ اپنی گنز استعمال کر کے ڈرونز گراتے رہے۔ بہت کم تعداد ہے جو شہروں تک پہنچی، زیادہ تر ڈرونز جو تھے وہ ہماری رینجرز نے بارڈر پر ہی گرا دیے۔
انہوں نے ہماری تقریباً 100 کے قریب پوسٹوں پر اس وقت حملہ کیا تھا، اور اللہ کا شکر ہے کہ ان کو اسی طرح کا جواب ملا جس کے وہ مستحق تھے۔ آپ کے سامنے وہ تصویریں بھی موجود ہیں جن میں انہیں ایل او سی پر خود سفید جھنڈا لہرانا پڑا کہ اب بس کر دیں۔
وزیر داخلہ کے مطابق سائبر اٹیک کی بھی انہوں نے کوشش کی کہ کہیں نہ کہیں کامیاب ہو جائیں، یہ وہ ساری چیزیں ہیں جو جنگوں میں نئے طریقوں سے استعمال ہوتی ہیں، جو عام جنگ سے بالکل مختلف ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ سائبر حملوں میں وہ ہم تک پہنچ نہیں سکے۔ جو ہمارے نوجوانوں نے ان کے ساتھ کیا، وہ بہتر وہی بتا سکتے ہیں کیونکہ ان کا کوئی نظام ایسا نہیں تھا جو محفوظ رہ گیا ہو۔
Addressing a news conference, Interior Minister Mohsin Naqvi says intelligence agencies played a key role during Marka-e-Haq, had advance information about Indian designs@MohsinnaqviC42 #MohsinNaqvi #MarkaEHaq #Pakistan #NewsConference #PakistanTV #BunyanUmMarsoos pic.twitter.com/jjw7K7qQn1
— Pakistan TV (@PakTVGlobal) May 7, 2026
وزیر داخلہ نے کہا کہ ہمارے میڈیا نے اس معاملے کو بہترین انداز میں پیش کیا، جس پر میں سب سے زیادہ تعریف کروں گا کہ انہوں نے پورے ملک میں اتحاد اور ایک آواز پیدا کی۔ پاکستان میں اس سے پہلے ایسی مثال نہیں ملتی۔ دوسری طرف بھارتی میڈیا مسلسل کنفیوژن کا شکار رہا، اور آپ کو یاد ہوگا کہ انہوں نے خود ہی اپنے اوپر حملے کی خبریں پھیلا دیں، جبکہ ہم بار بار کہہ رہے تھے کہ ابھی ہم نے کوئی حملہ نہیں کیا، جب کریں گے تو بتا کر کریں گے، چھپ کر نہیں کریں گے۔
انہوں نے پورے بھارت میں یہ تاثر دیا کہ امرتسر اور دیگر علاقوں پر حملے ہو گئے ہیں، جبکہ ہماری پوزیشن واضح تھی کہ جب بھی کارروائی ہوگی تو سامنے سے اور واضح ہوگی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ معرکہ حق کے دوران اور خطے میں ہونے والی حالیہ پیش رفت میں کئی ایسے مواقع آئے جن میں غیر معمولی حالات پیدا ہوئے، تاہم ان کا حل اللہ تعالیٰ کی مدد اور بہترین حکمت عملی سے ممکن ہوا۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل کی قیادت میں اہم فیصلوں کے دوران غیر معمولی حالات بھی پیدا ہوئے، لیکن جس طرح معاملات سنبھالے گئے وہ قابلِ ذکر ہے۔ ان کے مطابق ایسے مواقع بھی آئے جب صورتحال انتہائی حساس تھی اور فیصلہ کن لمحات میں بڑی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ انہوں نے خود دیکھا کہ مذاکرات کے دوران بعض اوقات بات چیت ٹوٹنے کے قریب پہنچ جاتی تھی اور پھر اچانک دوبارہ بحال ہو جاتی تھی۔ ان کے مطابق یہ ایک ایسا عمل تھا جس میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔
Interior Minister Mohsin Naqvi addresses a news conference in connection with the first commemoration of Marka-e-Haq@MohsinnaqviC42 #MohsinNaqvi #MarkaEHaq #Pakistan #NewsConference #PakistanTV #BunyanUmMarsoos pic.twitter.com/LqU5SX2d9Y
— Pakistan TV (@PakTVGlobal) May 7, 2026
انہوں نے کہا کہ اسی طرح جنگ کے دوران بھی ایک اہم موقع پر بلوچستان کے ایک فوجی اڈے پر حملہ کیا گیا، اس وقت صورتحال انتہائی حساس تھی اور سیزفائر کے قریب معاملات چل رہے تھے۔
ان کے مطابق تقریباً 16 میزائل داغے گئے، تاہم ان میں سے زیادہ تر اپنے ہدف تک نہ پہنچ سکے اور صرف ایک میزائل نے ہدف کو متاثر کیا، جبکہ باقی میزائل راستے میں ہی ناکام ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی صورتحال میں اس حد تک درست دفاعی ردعمل ممکن ہونا غیر معمولی بات ہے اور ان کے مطابق یہ صرف حکمت عملی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی خاص مدد اور نصرت کا نتیجہ تھا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ایسے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ جب حالات انتہائی نازک ہوں تو کامیابی کے لیے بہترین منصوبہ بندی اور اللہ کی مدد دونوں ضروری ہوتے ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ معرکہ حق کے دوران پاکستان کی جانب سے کیے گئے دفاعی اور جوابی اقدامات انتہائی درست نشانے پر تھے اور دشمن کے اہم اہداف کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا گیا۔
پریس کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ ایک موقع پر بھارت کے ایک بڑے اور حساس علاقے کی جانب میزائل فائر کیے گئے، تاہم درست ہدف بندی کے باعث یہ میزائل اپنی اصل ہدف سے ہٹ کر صرف فوجی نوعیت کے اہداف تک محدود رہے، جس سے شہری آبادی کو نقصان نہیں پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ اگر معمولی سی بھی غلطی ہو جاتی تو سول آبادی متاثر ہو سکتی تھی، تاہم پاکستان کی جانب سے انتہائی احتیاط اور درستگی کے ساتھ کارروائی کی گئی۔ وفاقی وزیر کے مطابق اس دوران بھارت کے بڑے ایندھن ذخائر اور اسٹریٹجک تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس سے اس کے اہم اسٹوریج نظام کو نقصان پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ ان کارروائیوں کے دوران درجنوں اہداف زیر نگرانی اور نشانے پر تھے، اور پاکستان کی دفاعی حکمت عملی انتہائی مؤثر ثابت ہوئی۔
محسن نقوی نے مزید کہا کہ اس صورتحال میں دشمن کو احساس ہو گیا تھا کہ اگلے چند گھنٹوں میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے، اسی لیے کشیدگی کم کرنے کے لیے سیزفائر کی طرف پیش رفت کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کامیابی کا ایک بڑا سبب درست منصوبہ بندی، جدید ٹیکنالوجی اور بروقت فیصلے تھے جنہوں نے جنگی صورتحال میں واضح برتری دلائی۔














