خیبرپختونخوا پولیس، سی ٹی ڈی اور سیکیورٹی فورسز نے ضلع ہنگو میں فتنہ الخوارج کے 100 سے زائد دہشتگردوں کی دراندازی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے بڑی کارروائی کی ہے۔ آئی جی خیبرپختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کامیاب آپریشن پر پولیس اور سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:محسن داوڑ کا ’فتنہ الخوارج‘ بیانیہ مسترد، قومی سلامتی کے معاملات پر ریاستی اداروں کی کوششوں کو تسلیم کرنا ضروری قرار
ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز خیبرپختونخوا پولیس کے مطابق پیر کے روز شروع ہونے والے آپریشن کے دوران دہشتگرد ضلع اورکزئی کے پہاڑی علاقوں سے ہنگو کے علاقوں زرگری، شناوری اور نریاب میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ دہشتگردوں نے مختلف سرحدی پوسٹس کا محاصرہ کرنے کی بھی کوشش کی، تاہم ہنگو پولیس، سی ٹی ڈی، ایف سی اور پاک فوج نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان کے عزائم ناکام بنا دیے۔
بیان کے مطابق سہ روزہ جھڑپوں میں دہشتگردوں کو بھاری نقصان پہنچا جبکہ مقامی افراد کے مطابق دہشتگرد اپنے ہلاک ساتھیوں کی لاشیں اور زخمیوں کو اٹھا کر فرار ہوگئے۔

آپریشن کے دوران دہشتگردوں کی جانب سے داغے گئے مارٹر گولے آبادی پر بھی گرے، جس کے نتیجے میں 6 شہری شہید اور 13 زخمی ہوگئے۔ سیکیورٹی اداروں نے کارروائی کے بعد عوامی املاک، اسکولوں اور پہاڑی علاقوں کو مکمل طور پر کلیئر کرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
آئی جی پی ذوالفقار حمید نے کہا کہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے جان ہتھیلی پر رکھ کر لڑنے والے جوان قوم کا فخر ہیں۔ انہوں نے آپریشن میں حصہ لینے والے ہنگو پولیس، سی ٹی ڈی، ایلیٹ فورس اور البرق فورس کے اہلکاروں کے لیے نقد انعامات اور تعریفی اسناد کا بھی اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھیں:بنوں آپریشن میں افغان حمایت بے نقاب، فتنہ الخوارج کے خلاف پاکستان کا فیصلہ کن اقدام
آئی جی خیبرپختونخوا پولیس کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا پولیس فتنہ الخوارج کے مکمل خاتمے کی صلاحیت رکھتی ہے اور عوام کے تحفظ کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔













