میٹا کی ملکیت والے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام نے 8 مئی 2026 سے اپنی ڈائریکٹ میسجز (ڈی ایمز) میں اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد صارفین کے نجی پیغامات کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔
اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن وہ نظام ہے جس میں صرف پیغام بھیجنے والا اور وصول کرنے والا ہی مواد دیکھ سکتا ہے، جبکہ پلیٹ فارم خود بھی پیغامات تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔ تاہم نئی تبدیلی کے بعد انسٹاگرام پیغامات عام انکرپشن کے تحت کام کریں گے، جس سے کمپنی کو ضرورت پڑنے پر ٹیکسٹ، تصاویر، ویڈیوز اور وائس نوٹس تک تکنیکی رسائی حاصل ہو سکے گی۔
یہ بھی پڑھیے: میٹا کو نیو میکسیکو میں ٹرائل کا سامنا، فیس بک اور انسٹاگرام میں بڑی تبدیلیوں کا امکان
میٹا کے مطابق یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا کیونکہ بہت کم صارفین نے اس فیچر کو فعال کیا تھا۔ کمپنی نے صارفین کو ہدایت کی ہے کہ اگر وہ اپنی پرانی انکرپٹڈ چیٹس یا میڈیا محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو ایپ اپڈیٹ کرکے ڈیٹا ڈاؤن لوڈ کر لیں۔
پرائیویسی کے حامی حلقوں نے اس اقدام پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ میٹا نے 2019 میں ‘مستقبل نجی ہوگا’ کا وعدہ کیا تھا، لیکن اب انسٹاگرام پر مضبوط رازداری کا نظام ختم کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق جب پلیٹ فارم پیغامات پڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو قانونی مطالبات پر مواد اسکین یا شیئر بھی کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: فیسبک کی طرف سے اسٹوریز کے ذریعے پیسے کمانے کا فیچر متعارف
دوسری جانب بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور بعض قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے باعث ہراسانی، استحصال اور غیرقانونی مواد کی نگرانی مشکل ہو جاتی ہے۔














