ایران کی جانب سے امریکی تجاویز کا جواب آج متوقع ہے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

جمعہ 8 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو توقع ظاہر کی ہے امریکا کی جانب سے تنازعے کے خاتمے کے لیے پیش کی گئی تجاویز کا ایران کی جانب سے جواب جعمے تک آجائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا مذاکرات کا اگلا روڈ میپ کیا ہو سکتا ہے؟

روم میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ ہم آج کسی نہ کسی وقت ان کے جواب کی توقع کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ وہ پیشکش سنجیدہ ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ امید ہے کہ یہ پیشکش مذاکرات کے ایک سنجیدہ عمل کا آغاز کر سکے گی۔

روبیو نے کہا کہ انہوں نے ویٹیکن میں پوپ لیو سے بھی ملاقات کی جس میں مذہبی آزادی اور ایران کے خطرات سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر بات ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اپنے نقطہ نظر کو شریک کرنا اور وضاحت دینا ضروری ہے اور ملاقات بہت مثبت رہی۔

مارکو روبیو نے خبردار کیا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ٹریفک کنٹرول کے لیے کسی ایجنسی کے قیام کی کوشش ناقابل قبول ہوگی۔

مزید پڑھیے: ایران امریکا مذاکرات کے بعد پاکستان کی تیز ترین سفارتکاری، قیام امن کے لیے کن عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں، رابطے کیے؟

روبیو نے مزید کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ابھی فیصلہ نہیں کر پائے ہیں کہ کچھ اتحادیوں کی جانب سے امریکی فوج کو اپنے اڈوں کے استعمال سے روکنے کے جواب میں کیا کارروائی کریں۔

قبل ازیں ایران نے کہا تھا کہ وہ فی الحال امریکا کی امن تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے حالانکہ دونوں جانب خلیج ہرمز میں جمعرات کو فائرنگ بھی ہوئی۔

امریکا کے مطالبات

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے حال ہی میں ایران کو 14 نکات پر مشتمل منصوبہ بھیجا ہے جس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار تیار نہ کرے، کم از کم 12 سال کے لیے یورینیم کی افزودگی معطل کرے اور 440 کلوگرام یورینیم جو 60 فیصد تک افزودہ ہو منتقل کرے۔

بدلے میں امریکا آہستہ آہستہ پابندیاں کم کرے گا، اربوں ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثے جاری کرے گا اور ایرانی بندرگاہوں کا بحری محاصرہ ختم کرے گا۔ اس منصوبے کے تحت دونوں فریقین خلیج ہرمز میں بحری بحران کے باوجود اس اہم پانی کے راستے کو 30 دن کے اندر دوبارہ کھولیں گے۔

اب تک ایران نے اس پیشکش پر رسمی جواب نہیں دیا، تاہم سینیئر ایرانی حکام نے اس کی مخالفت کی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے رکن اور خارجہ و قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے کہا کہ یہ ’دستاویز امریکی خواہشات کی فہرست زیادہ لگتا ہے حقیقت نہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ جب بھی سفارتی حل دستیاب ہوتا ہے امریکا فوجی مہم کا انتخاب کرتا ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ ’کیا یہ ایک دباؤ کی ترکیب ہے یا پھر صدر کو پھر سے ایک اور مشکل میں پھنسانے کے لیے کوئی سازش‘۔

مزید پڑھیں: کبھی ہاں کبھی ناں: ایران امریکا مذاکرات کی کہانی

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے پاکستان کی قیادت کو سراہا کہ انہوں نے پروجیکٹ فریڈم کو مؤخر کرنے میں واشنگٹن کو قائل کیا جو امریکی قیادت میں خلیج ہرمز میں رکے ہوئے تجارتی جہازوں کی حفاظت کے لیے شروع کی گئی تھی۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا کہ ’پاکستان شاندار رہا اور ان کے رہنما بھی شاندار رہے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف دونوں کا شکریہ‘۔

پاکستان نے ایران سے مذاکرات کے دوران امریکی فوجی کارروائی سے گریز کی درخواست کی ہے، صدر ٹرمپ

علاوہ ازیں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان نے امریکا سے درخواست کی ہے کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے دوران ایران کے خلاف کوئی فوجی کارروائی نہ کی جائے۔

واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اچھے چل رہے ہیں اور ایران معاہدہ کرنے کا زیادہ خواہش مند ہے۔

انہوں نے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مذاکراتی عمل میں اسلام آباد نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہم سے کہا کہ ہم اس وقت فوجی کارروائی نہ کریں، اگر ضرورت پڑی تو ہم دوبارہ دیکھیں گے لیکن مذاکرات کے دوران انہوں نے یہی درخواست کی۔

سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف امریکی قرارداد روس نے مسترد کردی

قبل ازیں روس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی گئی ایران کے خلاف امریکی قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے اسے غیر متوازن اور اشتعال انگیز اقدام قرار دے دیا۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق روسی مندوب نے سلامتی کونسل میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ قرارداد واشنگٹن کی ایک اور یکطرفہ اور کشیدگی بڑھانے کی کوشش ہے جو خطے میں صورتحال کو مزید خراب کر سکتی ہے۔

امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس قرارداد کو بحرین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر کی حمایت حاصل تھی۔

یہ بھی پڑھیے: ایران امریکا مذاکرات پر دنیا کی نظریں مگر اس میں رکاوٹیں کیا ہیں؟

قرارداد میں ایران سے آبنائے ہرمز میں مبینہ حملے روکنے اور وہاں عائد ٹول ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp