امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو توقع ظاہر کی ہے امریکا کی جانب سے تنازعے کے خاتمے کے لیے پیش کی گئی تجاویز کا ایران کی جانب سے جواب جعمے تک آجائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا مذاکرات کا اگلا روڈ میپ کیا ہو سکتا ہے؟
روم میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ ہم آج کسی نہ کسی وقت ان کے جواب کی توقع کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ وہ پیشکش سنجیدہ ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ امید ہے کہ یہ پیشکش مذاکرات کے ایک سنجیدہ عمل کا آغاز کر سکے گی۔
روبیو نے کہا کہ انہوں نے ویٹیکن میں پوپ لیو سے بھی ملاقات کی جس میں مذہبی آزادی اور ایران کے خطرات سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر بات ہوئی۔
President Trump posts on TruthSocial: Three World Class American Destroyers just transited, very successfully, out of the Strait of Hormuz, under fire. There was no damage done to the three Destroyers, but great damage done to the Iranian attackers.
They were completely… pic.twitter.com/HzxCey8tHh
— Donald J Trump Posts TruthSocial (@TruthTrumpPost) May 7, 2026
انہوں نے کہا کہ اپنے نقطہ نظر کو شریک کرنا اور وضاحت دینا ضروری ہے اور ملاقات بہت مثبت رہی۔
مارکو روبیو نے خبردار کیا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ٹریفک کنٹرول کے لیے کسی ایجنسی کے قیام کی کوشش ناقابل قبول ہوگی۔
روبیو نے مزید کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ابھی فیصلہ نہیں کر پائے ہیں کہ کچھ اتحادیوں کی جانب سے امریکی فوج کو اپنے اڈوں کے استعمال سے روکنے کے جواب میں کیا کارروائی کریں۔
قبل ازیں ایران نے کہا تھا کہ وہ فی الحال امریکا کی امن تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے حالانکہ دونوں جانب خلیج ہرمز میں جمعرات کو فائرنگ بھی ہوئی۔
امریکا کے مطالبات
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے حال ہی میں ایران کو 14 نکات پر مشتمل منصوبہ بھیجا ہے جس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار تیار نہ کرے، کم از کم 12 سال کے لیے یورینیم کی افزودگی معطل کرے اور 440 کلوگرام یورینیم جو 60 فیصد تک افزودہ ہو منتقل کرے۔
Operation Trust Me Bro failed. Now back to routine with Operation Fauxios.
— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) May 6, 2026
بدلے میں امریکا آہستہ آہستہ پابندیاں کم کرے گا، اربوں ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثے جاری کرے گا اور ایرانی بندرگاہوں کا بحری محاصرہ ختم کرے گا۔ اس منصوبے کے تحت دونوں فریقین خلیج ہرمز میں بحری بحران کے باوجود اس اہم پانی کے راستے کو 30 دن کے اندر دوبارہ کھولیں گے۔
اب تک ایران نے اس پیشکش پر رسمی جواب نہیں دیا، تاہم سینیئر ایرانی حکام نے اس کی مخالفت کی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے رکن اور خارجہ و قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے کہا کہ یہ ’دستاویز امریکی خواہشات کی فہرست زیادہ لگتا ہے حقیقت نہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ جب بھی سفارتی حل دستیاب ہوتا ہے امریکا فوجی مہم کا انتخاب کرتا ہے۔
Every time a diplomatic solution is on the table, the U.S. opts for a reckless military adventure. Is it a crude pressure tactic? Or the result of a spoiler once again duping POTUS into another quagmire?
Whatever the causes, outcome is the same: Iranians never bow to pressure. pic.twitter.com/ev7dMIebNB
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) May 8, 2026
انہوں نے سوال کیا کہ ’کیا یہ ایک دباؤ کی ترکیب ہے یا پھر صدر کو پھر سے ایک اور مشکل میں پھنسانے کے لیے کوئی سازش‘۔
مزید پڑھیں: کبھی ہاں کبھی ناں: ایران امریکا مذاکرات کی کہانی
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے پاکستان کی قیادت کو سراہا کہ انہوں نے پروجیکٹ فریڈم کو مؤخر کرنے میں واشنگٹن کو قائل کیا جو امریکی قیادت میں خلیج ہرمز میں رکے ہوئے تجارتی جہازوں کی حفاظت کے لیے شروع کی گئی تھی۔
President Trump on why Project Freedom is Paused:
"Pakistan has been fantastic. And their leaders have been fantastic. The field marshal and the prime minister. And they asked us not to do it. We'll go back to it if we have to."
— Donald J Trump Posts TruthSocial (@TruthTrumpPost) May 8, 2026
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا کہ ’پاکستان شاندار رہا اور ان کے رہنما بھی شاندار رہے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف دونوں کا شکریہ‘۔
پاکستان نے ایران سے مذاکرات کے دوران امریکی فوجی کارروائی سے گریز کی درخواست کی ہے، صدر ٹرمپ
علاوہ ازیں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان نے امریکا سے درخواست کی ہے کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے دوران ایران کے خلاف کوئی فوجی کارروائی نہ کی جائے۔
واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اچھے چل رہے ہیں اور ایران معاہدہ کرنے کا زیادہ خواہش مند ہے۔
🚨🇵🇰 PAKISTAN AURA IS NEXT LEVEL
US President Trump says he suspended Project Freedom because of Pakistan’s leadership Field Marshal and Prime Minister, he says:
“Wonderful leadership of Pakistan asked me not to do it, go for negotiations”
Bad news for Indians continuously. pic.twitter.com/KDbGUFG1Jw
— Zard si Gana (@ZardSi) May 8, 2026
انہوں نے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مذاکراتی عمل میں اسلام آباد نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہم سے کہا کہ ہم اس وقت فوجی کارروائی نہ کریں، اگر ضرورت پڑی تو ہم دوبارہ دیکھیں گے لیکن مذاکرات کے دوران انہوں نے یہی درخواست کی۔
سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف امریکی قرارداد روس نے مسترد کردی
قبل ازیں روس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی گئی ایران کے خلاف امریکی قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے اسے غیر متوازن اور اشتعال انگیز اقدام قرار دے دیا۔
US, with Gulf allies, to push for UN resolution on Iran attacks in Hormuz – though China and Russia are likely to vetohttps://t.co/RLvGyPRN54
— The New Arab (@The_NewArab) May 8, 2026
انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق روسی مندوب نے سلامتی کونسل میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ قرارداد واشنگٹن کی ایک اور یکطرفہ اور کشیدگی بڑھانے کی کوشش ہے جو خطے میں صورتحال کو مزید خراب کر سکتی ہے۔
امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس قرارداد کو بحرین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر کی حمایت حاصل تھی۔
یہ بھی پڑھیے: ایران امریکا مذاکرات پر دنیا کی نظریں مگر اس میں رکاوٹیں کیا ہیں؟
قرارداد میں ایران سے آبنائے ہرمز میں مبینہ حملے روکنے اور وہاں عائد ٹول ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔














