آسٹریلیا کی جانب سے بی ایل اے اور 3 سینیئر رہنماؤں پر دہشتگردی کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد

جمعہ 8 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آسٹریلیا نے جمعے کے روز بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کے 3 سینیئر رہنماؤں پر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے اور ان کی معاونت کے الزام میں مالی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وونگ کے دفتر کی جانب سے 8 مئی کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام کاؤنٹر ٹیررازم فنانسنگ قوانین کے تحت کیا گیا ہے تاکہ دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت روکی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی

بیان کے مطابق بی ایل اے ایک ایسا گروہ ہے جس نے پاکستان میں متعدد پرتشدد حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں عام شہری، بنیادی ڈھانچے اور غیر ملکی شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ریاستی اداروں پر بھی حملے کیے گئے۔

آسٹریلوی وزارت خارجہ نے کہا کہ ان پابندیوں کا مقصد دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنا ہے تاکہ وہ اپنی کارروائیاں، بھرتی اور انتہا پسند نظریات کو پھیلانے کی صلاحیت سے محروم ہو جائیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ آسٹریلیا دہشت گردی اور پرتشدد انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا۔

یہ بھی پڑھیے: بی ایل اے علیحدگی پسند گروہ نہیں، خطرناک دہشتگرد تنظیم ہے، امریکا

آسٹریلوی حکومت کے مطابق کسی بھی نامزد شخص یا تنظیم کے اثاثوں سے لین دین کرنا یا انہیں مالی معاونت فراہم کرنا ایک سنگین جرم ہے جس پر بھاری جرمانے اور 10 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

پاکستان پہلے ہی متعدد عالمی فورمز پر بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کی اپیل کر چکا ہے۔ اسلام آباد کے مطابق یہ تنظیم 2025 میں جعفر ایکسپریس حملے سمیت کئی بڑے حملوں میں ملوث رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp