امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے ایک بار پھر امریکی محکمہ خارجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کو مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں کے باعث ‘خصوصی تشویش کا حامل ملک’ قرار دیا جائے۔
واشنگٹن میں ہونے والی سماعت کے دوران کمیشن کے اراکین، قانون سازوں، ماہرین اور اسکالرز نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کو درپیش صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ کمیشن کی چیئرپرسن وکی ہارٹزلر نے کہا کہ بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال مسلسل خراب ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکی کانگریس میں پاکستان کے حق میں اہم قرارداد منظور، ’ایران کے بعد امریکا بھی شکریہ پاکستان کہنے لگا‘
ان کے مطابق بھارتی حکومت قومی، ریاستی اور مقامی سطح پر امتیازی قوانین، مذہبی رہنماؤں کی من مانی گرفتاریوں اور اقلیتوں پر حملوں کو روکنے میں ناکامی کے ذریعے خلاف ورزیوں کو برداشت کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2026 تک بھارت کی 28 میں سے 13 ریاستوں میں سخت مذہب تبدیلی مخالف قوانین نافذ ہیں جن میں بعض صورتوں میں عمر قید کی سزا بھی شامل ہے۔
کمیشن کے نائب چیئرمین آصف محمود نے الزام عائد کیا کہ بھارتی حکومت بیرون ملک بھی مذہبی اقلیتوں اور کارکنوں کے خلاف دباؤ ڈال رہی ہے، جبکہ شمالی امریکا میں سکھ رہنماؤں کو مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: سکھ رہنماؤں کو بھارتی دھمکیاں، سکھ فار جسٹس نے بھارتی سفارتکار کی مبینہ آڈیو لیک کردی
امریکی رکن کانگریس کرس اسمتھ نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ میں مجوزہ ترامیم پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے عیسائی اداروں، اسپتالوں اور اسکولوں کی جائیدادیں حکومتی تحویل میں جانے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
سماعت میں دیگر مقررین نے بھارت میں اقلیتوں کے خلاف تشدد، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، انٹرنیٹ بندشوں اور کشمیریوں سمیت مختلف طبقات کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔














