وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اعلان کیا ہے کہ پیپلز ایئر ایمبولینس عوامی خدمت کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اس کا باقاعدہ افتتاح جلد چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کریں گے۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں اس منصوبے کو بلوچستان کی تاریخ کا ایک انقلابی قدم قرار دیا۔
وزیر اعلیٰ کے مطابق یہ جدید ایئر ایمبولینس سروس صوبے کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں رہنے والے مریضوں کو بروقت طبی امداد فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ شدید زخمی اور نازک حالت کے مریضوں کو فوری طور پر بڑے شہروں کے اسپتالوں تک منتقل کرنا اس سروس کے ذریعے ممکن ہوگا، جس سے قیمتی انسانی جانیں بچانے میں مدد ملے گی۔
پیپلز ایئر ایمبولینس عوامی خدمت کے لیے تیار ، جلد ہی طبی خدمات کا باقاعدہ آغاز کر دیا جائے گا، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی
کوئٹہ، 30 اپریل 2026
بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار عام آدمی کو ہنگامی طبی امداد کی فراہمی کے لیے ایئر ایمبولینس کا منصوبہ عملی شکل اختیار کر چکا… https://t.co/Ub92uS3zNx— PPP Baluchistan (@PPPBaluchistan) April 30, 2026
صوبائی وزیر صحت نے بتایا کہ ایئر ایمبولینس میں 2 ڈاکٹرز، 2 پیرامیڈیکس، وینٹیلیٹر اور فرسٹ ایڈ کا مکمل سامان موجود ہوگا۔ یہ سروس قدرتی آفات، ٹریفک حادثات اور دیگر ہنگامی حالات میں فوری رسپانس کے لیے استعمال کی جائے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پیپلز ایئر ایمبولینس سروس بلاشبہ بلوچستان جیسے وسیع اور جغرافیائی طور پر مشکل صوبے کے لیے ایک مثبت پیشرفت ہے۔ یہاں صحت کی سہولیات کا بڑا مسئلہ فاصلے، انفراسٹرکچر کی کمی اور بروقت رسائی نہ ہونا ہے۔ ایسے میں ایئر ایمبولینس جیسے منصوبے نہ صرف ایمرجنسی رسپانس کو بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ دیہی اور شہری علاقوں کے درمیان صحت کی سہولیات کے فرق کو بھی کم کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:مسائل کا حل مذاکرات میں ہے، تشدد یا دہشتگردی کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی
تاہم اس منصوبے کی کامیابی صرف آغاز پر نہیں بلکہ اس کے مؤثر اور مستقل آپریشن پر منحصر ہوگی۔ ایئر ایمبولینس سروس کو فعال رکھنے کے لیے تربیت یافتہ عملہ، ایندھن، دیکھ بھال، اور واضح آپریشنل طریقہ کار درکار ہوگا۔ اس کے علاوہ، یہ بھی اہم ہے کہ سروس تک رسائی شفاف اور بلاامتیاز ہو تاکہ واقعی مستحق افراد کو فائدہ پہنچ سکے۔
اگراس منصوبے کو صوبے کے موجودہ زمینی ایمبولینس نیٹ ورک اور ہسپتالوں کے نظام کے ساتھ مؤثر طریقے سے جوڑا جائے تو اس کے نتائج کہیں زیادہ بہتر ہو سکتے ہیں۔













