امریکی حکام کو شبہ ہے کہ اینویڈیا کے جدید اے آئی چپس تھائی لینڈ کے ذریعے اسمگل کرکے چین پہنچائے گئے، جن کے آخری خریداروں میں علی بابا گروپ بھی شامل ہوسکتا ہے۔ یہ انکشاف بلوم برگ کی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے جس میں معاملے سے واقف ذرائع کا حوالہ دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق تھائی لینڈ کے قومی مصنوعی ذہانت منصوبے سے منسلک ایک کمپنی پر الزام ہے کہ اس نے اربوں ڈالر مالیت کے ایسے سرورز کی منتقلی میں مدد دی جن میں اینویڈیا کے جدید چپس نصب تھے۔ یہ سرورز سپر مائیکرو کمپیوٹر نے تیار کیے تھے۔
یہ بھی پڑھیے: ای کامرس سیکٹر میں بڑی سرمایہ کاری، علی بابا کی کمپنی کو گرین سگنل
امریکی پراسیکیوٹرز نے اس معاملے میں ایک جنوب مشرقی ایشیائی کمپنی کو ‘کمپنی ون’ قرار دیا، جسے بلوم برگ نے بینکاک میں قائم ‘اوبون کارپوریشن’ بتایا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2.5 ارب ڈالر مالیت کی امریکی اے آئی ٹیکنالوجی چین منتقل کی گئی، جس میں سے 50 کروڑ ڈالر سے زائد کی ترسیل صرف اپریل سے مئی 2025 کے درمیان ہوئی۔
اینویڈیا نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اپنے شراکت داروں سے سخت قوانین کی پابندی کی توقع رکھتی ہے اور حکومتی اداروں کے ساتھ مل کر برآمدی ضوابط پر عملدرآمد جاری رکھے گی۔
دوسری جانب علی بابا گروپ نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا سپر مائیکرو، اوبون یا کسی تیسرے فریق بروکر سے کوئی کاروباری تعلق نہیں اور اس کے ڈیٹا سینٹرز میں ممنوعہ اینویڈیا چپس استعمال نہیں کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیے: چین کے اے آئی ماڈلز نے عالمی مارکیٹ میں ہلچل مچا دی
واضح رہے کہ امریکا نے 2022 میں قومی سلامتی کے خدشات کے باعث چین کو جدید اینویڈیا چپس کی برآمد پر پابندی عائد کردی تھی تاکہ انہیں فوجی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جاسکے۔














