امریکی کمیشن کا بھارت کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں پر ’خصوصی تشویش‘ والا ملک قرار دینے کا مطالبہ

اتوار 10 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی نے بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کو مذہبی آزادی کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزیوں کے باعث ’خصوصی تشویش کا حامل ملک‘ قرار دیا جائے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی کی سربراہ وکی ہرٹزلر نے واشنگٹن میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں اور مسیحیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے حملے عالمی برادری کے لیے باعث تشویش ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکا جب بھی بھارت کے ساتھ تجارت یا دوطرفہ تعلقات پر بات کرے تو مذہبی آزادی کے معاملات کو بھی ضرور اٹھائے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت میں اقلیتیں محفوظ نہیں، پاکستان نے کرتار پور راہداری کھول کر شاندار مثال قائم کی، رمیش سنگھ اروڑا

وکی ہرٹزلر کا کہنا تھا کہ بھارت کو ایسے قوانین میں تبدیلی لانا ہوگی جو مذہبی اقلیتوں کے حقوق اور آزادیوں کو متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی آزادی بنیادی انسانی حق ہے اور اس کے تحفظ کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔

انہوں نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کو بھی مذہبی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق حاصل ہونے چاہییں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp