پاکستان کے نوجوان اوپنر اذان اویس نے ٹیسٹ کرکٹ میں شاندار آغاز کرتے ہوئے اپنے ڈیبیو میچ میں سنچری اسکور کر لی۔ یہ کارنامہ انہوں نے بنگلہ دیش کے خلاف جاری پہلے ٹیسٹ کے تیسرے دن شیرِ بنگلا نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں انجام دیا۔
دائیں ہاتھ کے بالر ناہید رانا کے اوور میں سنگل لے کر سنچری مکمل کرنے والے 21 سالہ اذان اویس نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی آمد کو یادگار بنا دیا۔
Azan Awais is the 14th Pakistani batter to score a century on Test debut. The list is – Javed Miandad, Younis Khan, Fawad Alam, Yasir Hameed, Taufeeq Umar, Azhar Mahmood, Abid Ali, Mohammad Wasim, Umar Akmal, Khalid Ibadulla, Kamran Ghulam, Ali Naqvi and Saleem Malik #BANvPAK… pic.twitter.com/XZrA7ZUNnj
— Saj Sadiq (@SajSadiqCricket) May 10, 2026
اس سنچری کے ساتھ وہ پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ ڈیبیو پر سنچری بنانے والے 14ویں بیٹر بن گئے ہیں، جن میں جاوید میانداد، یونس خان اور فواد عالم جیسے نامور کھلاڑی شامل ہیں۔
اذان اویس یہ اعزاز بھی حاصل کرنے والے صرف تیسرے پاکستانی بیٹر ہیں جنہوں نے بیرونِ ملک ٹیسٹ ڈیبیو پر سنچری بنائی۔ ان سے قبل عمر اکمل اور فواد عالم یہ کارنامہ انجام دے چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:شاہین آفریدی نے تاریخ رقم کر دی، ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ میں 100 وکٹیں لینے والے پہلے پاکستانی بولر بن گئے
نوجوان اوپنر نے 85 رنز پر تیسرے دن کا آغاز کیا تھا اور بھرپور اعتماد کے ساتھ اپنی اننگز کو آگے بڑھاتے ہوئے شاندار سنچری مکمل کی۔ تاہم وہ تجربہ کار بنگلہ دیشی فاسٹ بولر تسکین احمد کی گیند پر 103 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ ان کی اننگز 165 گیندوں پر مشتمل تھی جس میں 14 چوکے شامل تھے۔
Azan Awais joins an elite bracket of Pakistan batters, becoming only the third player—after Fawad Alam and Umar Akmal—to score a Test century on debut away from home.
From the U19 ranks to the Test arena, the kid is special. A star is born in Bangladesh! 🌟🏏#BANvPAK #AzanAwais… pic.twitter.com/DclLCLVLxy— Kashif Munawar (@Kashif_Munawwar) May 10, 2026
پاکستانی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں سنچری بنانے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں خالد عباد اللہ سے لے کر اب اذان اویس تک کئی بڑے نام شامل ہو چکے ہیں، جبکہ یاسر حمید واحد کھلاڑی ہیں جنہوں نے اپنے ڈیبیو ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں سنچریاں اسکور کیں۔
اذان اویس کی یہ اننگز پاکستان کے لیے ایک امید افزا آغاز قرار دی جا رہی ہے، جس نے نوجوان بیٹر کی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر نمایاں کر دیا ہے۔














