جنوبی ایشیا میں ریکارڈ گرمی کی لہر نے بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش سمیت کئی ممالک میں معمولاتِ زندگی شدید متاثر کردیے ہیں، جہاں درجہ حرارت موسمی اوسط سے کہیں زیادہ بڑھ کر بعض علاقوں میں 45 سے 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے۔
بھارتی محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ملک کے مغربی اور مشرقی ساحلی علاقوں سمیت گجرات اور مہاراشٹر میں شدید گرمی مزید کئی روز برقرار رہ سکتی ہے۔ بعض علاقوں میں درجہ حرارت 46 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرگیا جبکہ متعدد افراد ہیٹ اسٹروک کے باعث جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب میں موسم گرما کی تعطیلات کب سے ہوں گی؟ تفصیلات سامنے آگئیں
پاکستان میں بھی سندھ خصوصاً کراچی، جیکب آباد اور سکھر شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ کراچی میں حالیہ دنوں میں درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو 2018 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق گرمی سے متعلق پیچیدگیوں کے باعث متعدد اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ محکمہ موسمیات نے شہریوں کو دھوپ میں غیرضروری نقل و حرکت سے گریز اور زیادہ پانی پینے کی ہدایت کی ہے۔
بنگلہ دیش میں ڈھاکا اور دیگر شہروں میں بھی درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا میں ہیٹ ویوز اب معمول بنتی جارہی ہیں، تاہم اس بار شدت، دورانیہ اور پھیلاؤ غیرمعمولی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ہیٹ ویو اور گلیشیائی جھیلیں پھٹنے کا خطرہ، آئندہ دنوں میں موسم سے متعلق الرٹ جاری کردیا گیا
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث مستقبل میں گرمی کی لہریں مزید خطرناک ہوسکتی ہیں، جبکہ غریب اور دیہاڑی دار طبقہ اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوگا۔
حکام کے مطابق یہ غیرمعمولی ہیٹ ویو موسمیاتی تبدیلی اور کم بارشوں کے باعث شدت اختیار کررہی ہے۔














