اب سے چند گھنٹے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی امن تجاویز کے جواب میں ایرانی تجاویز اور مطالبات کو ’مکمل طور پر مسترد‘ کردیا ہے اور اس کے جواب میں ایران نے بھی کہا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی جواب کو مسترد کرنے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ تاہم اس بات کے اب بھی قومی امکانات موجود ہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل دوبارہ شروع ہو، سفارتی حلقوں میں یہ تاثر مضبوط ہورہا ہے کہ خطے میں جاری خاموش سفارت کاری جلد کسی اہم پیشرفت کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔
اسلام آباد میں مذاکراتی عمل کا ایک ابتدائی دور پہلے ہی ہوچکا ہے، تاہم دوسرے مرحلے سے متعلق بات چیت مختلف سفارتی اور سیاسی عوامل کے باعث تاحال تعطل کا شکار رہی۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور بھی اسلام آباد میں متوقع، ’بھارتیوں کے دل پھر جلنے والے ہیں‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متوقع دورہ چین اور خطے میں بڑھتی سفارتی سرگرمیوں نے ایران امریکا مذاکرات سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
سفارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اس پورے عمل میں ایک اہم سہولت کار کے طور پر ابھر رہا ہے اور بیک ڈور ڈپلومیسی تیزی سے جاری ہے۔
آنے والے دنوں میں عالمی سیاست میں اہم پیشرفت متوقع ہے، نائلہ چوہان
ایران کے لیے پاکستان کی سابق سفیر نائلہ چوہان نے کہاکہ آنے والے دنوں میں عالمی سیاست میں اہم پیشرفت متوقع ہے، خصوصاً امریکی صدر کے چین کے دورے کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم میرے خیال میں اس دورے کا بنیادی فوکس تجارتی معاملات اور اقتصادی مذاکرات ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے بعض اقتصادی اور تجارتی پابندیوں یا دباؤ کی حکمت عملی کا مقصد چین پر اثر انداز ہونا ہے تاکہ ملاقات کے دوران بہتر شرائط پر مذاکرات کیے جا سکیں، چونکہ چین اور ایشیا پیسیفک ممالک کی مصنوعات امریکی منڈی میں زیادہ جاتی ہیں، اس لیے واشنگٹن مختلف طریقوں سے بیجنگ پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔
نائلہ چوہان نے کہاکہ چین امریکی حکمت عملی کو بخوبی سمجھتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ امریکا کس طرح سفارتی اور اقتصادی دباؤ استعمال کرتا ہے۔
انہوں نے اس صورتحال کو انتہائی دلچسپ قرار دیتے ہوئے کہاکہ دیکھنا ہوگا کہ اس دورے کے کیا نتائج سامنے آتے ہیں۔
ایران اور امریکا کے تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے سابق سفیر نائلہ چوہان نے کہاکہ دونوں ممالک کے درمیان موجود اختلافات اور پوزیشنز میں واضح فرق پایا جاتا ہے، جسے کم کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا، پاکستان نے ہمیشہ اہم ثالثی اور سفارتی کردار ادا کیا ہے اور کئی مواقع پر مثبت پیشرفت بھی دیکھنے میں آئی ہے، تاہم اصل کامیابی دونوں متحارب ممالک کے درمیان اعتماد سازی سے مشروط ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ خطے میں فساد اور کشیدگی پیدا کرنے والی قوتوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، بھارت اور اسرائیل جیسے ممالک خطے میں اپنے مفادات کے حصول کے لیے سرگرم ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ بھارت پاکستان پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کررہا ہے جبکہ اسرائیل ایران کو کمزور کرنے کے ایجنڈے پر کام کررہا ہے۔
نائلہ چوہان نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہوں گے، تاہم انہوں نے خبردار کیاکہ خطے کی صورتحال نہایت حساس ہے اور کسی بھی وقت حالات خراب ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کو محتاط اور چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔
ایران امریکا تسلیم کر چکے کہ مسائل کا حل مذاکرات میں ہے، مسعود خالد
سابق سفیر مسعود خالد نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا باقاعدہ آغاز اس وقت ممکن ہوگا جب ایران کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اپنی تجاویز پر واضح جواب موصول ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ایران نے امریکا کو 14 تجاویز ارسال کی ہیں اور اب تمام نظریں واشنگٹن کے ردعمل پر مرکوز ہیں۔
مسعود خالد نے کہاکہ دونوں فریق اب اس حقیقت کو تسلیم کر چکے ہیں کہ موجودہ بحران کا حل فوجی کارروائی میں نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارت کاری میں ہے۔
انہوں نے کہاکہ اگر امریکا ایرانی امن تجاویز کو قبول کر لیتا ہے تو مذاکراتی عمل فوری طور پر دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے امکانات کافی روشن ہیں، انس ملک
امور خارجہ کی رپورٹنگ کرنے والے سینیئر صحافی انس ملک نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے امکانات کافی روشن ہیں اور آئندہ ہفتے اس حوالے سے اہم پیشرفت سامنے آ سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس وقت خاموش سفارت کاری جاری ہے اور صدر ٹرمپ کے چین سے متعلق سفارتی تناظر کو بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
انس ملک نے کہاکہ موجودہ صورتحال میں کسی ابتدائی معاہدے یا مسودے کی طرف پیشرفت ہو سکتی ہے، جسے ممکنہ طور پر ’اسلام آباد ڈیکلریشن‘ کا نام دیا جا سکتا ہے، تاہم ان کے مطابق کسی بڑے معاہدے سے قبل مزید اعتماد سازی اقدامات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے سنگاپور میں ہونے والے سفارتی رابطوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ پاکستانی وزیر خارجہ اور سنگاپور کے حکام کے درمیان ہونے والی بات چیت میں اس ایرانی جہاز کا معاملہ بھی زیر غور آیا جسے امریکا نے تحویل میں لیا تھا۔
انس ملک کے مطابق اس جہاز پر موجود 10 پاکستانیوں کو پاکستانی ہائی کمیشن سنگاپور کے ذریعے منتقل کیا جائےگا، جسے ایک اہم کانفیڈنس بلڈنگ کا اہم جزو سمجھا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ پیشرفت کامیاب رہتی ہے تو امریکا کے قبضے میں کوئی ایرانی جہاز باقی نہیں رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی راہ مزید ہموار ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران مذاکرات: بات چیت کا دوسرا دور بٹ کوائن کے لیے کتنا اہم ہوگا؟
انہوں نے کہاکہ بیک ڈور ڈپلومیسی بدستور جاری ہے اور کسی بھی وقت مذاکراتی عمل دوبارہ شروع ہونے کا اعلان سامنے آ سکتا ہے۔
سفارتی ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، عالمی دباؤ اور علاقائی طاقتوں کی دلچسپی کے باعث امریکا اور ایران اب دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں، جبکہ پاکستان اس پورے عمل میں ایک مؤثر اور متوازن کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔













