وفاقی حکومت نے گوادر پورٹ پر عالمی تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے مختلف ٹیرف میں نمایاں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر بحری امور جنید انور چوہدری کے مطابق نئے اقدامات سے شپنگ کمپنیوں کے اخراجات کم ہوں گے اور گوادر کو علاقائی تجارت و لاجسٹکس کے اہم مرکز کے طور پر فروغ ملے گا۔
وفاقی وزیر بحری امور جنید انور چوہدری نے پیر کو گوادر پورٹ پر ٹیرف میں بڑی کمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام کا مقصد عالمی ٹرانزٹ ٹریفک کو پاکستان کی جانب راغب کرنا اور بندرگاہ کی تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق کنٹینر بردار جہازوں کی برتھنگ فیس میں 25 فیصد کمی کی گئی ہے، جبکہ بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کنٹینرز پر پورٹ چارجز میں 40 فیصد تک کمی کر دی گئی ہے۔ اسی طرح ٹرانزٹ کنٹینر کارگو پر عائد پورٹ چارجز بھی 31 فیصد تک کم کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے گوادر سے وسطی ایشیا تک راہیں ہموار، پاکستان کی نئی تجارتی حکمت عملی
وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ جنرل کارگو کے لیے ایک ماہ تک مفت اسٹوریج سہولت بھی متعارف کرا دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرانزٹ اور ٹرانس شپمنٹ کارگو لانے والے جہازوں کو غیر معمولی ریلیف دیا گیا ہے اور گوادر پورٹ پر دی جانے والی مراعات ملک کی دیگر بندرگاہوں کے مقابلے میں ریکارڈ سطح پر ہیں۔
جنید انور چوہدری کے مطابق نئے ٹیرف سے شپنگ کمپنیوں کے آپریشنل اخراجات میں نمایاں کمی متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر کو علاقائی لاجسٹک حب بنانے کی پالیسی پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے، جس سے بندرگاہ پر کارگو ہینڈلنگ میں اضافہ، معاشی سرگرمیوں میں تیزی، روزگار کے نئے مواقع اور لاجسٹکس کے شعبے میں وسعت آئے گی۔
ادھر گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین نورالحق بلوچ نے ایک روز قبل کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں گوادر پورٹ کی اسٹریٹجک اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ ان کے مطابق ایران اور وسطی ایشیا تک مختصر تجارتی راستے اور سرمایہ کار دوست مراعات گوادر کو خطے کے لیے ایک محفوظ متبادل تجارتی گیٹ وے بنا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد، کیا گوادر، پورٹ قاسم اور کراچی کی بندرگاہیں گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہیں؟
کراچی میں آل پاکستان شپنگ ایسوسی ایشن کے ارکان سے ملاقات کے دوران نورالحق بلوچ نے کہا کہ کم آپریشنل لاگت، جدید سہولیات اور مختصر تجارتی راستوں کی وجہ سے گوادر مستقبل میں علاقائی تجارت اور لاجسٹکس کا اہم مرکز بن سکتا ہے۔ انہوں نے گبد-ریمدان سرحدی راستے کو ایران اور وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت کے فروغ کے لیے مؤثر ملٹی موڈل کوریڈور قرار دیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اپریل کے دوران گوادر پورٹ پر چار ٹرانس شپمنٹ جہازوں کی آمد ریکارڈ کی گئی، جو بندرگاہ کی بڑھتی ہوئی علاقائی اہمیت کا واضح ثبوت ہے۔














