رات زیادہ نہیں ہوئی تھی، مگر محلے کی آوازیں تھک چکی تھیں۔ کہیں دور برتن رکھے جانے کی کھٹاک آتی تھی اور گلی میں پانی بہنے کی مسلسل آواز۔ لوڈشیڈنگ ابھی کچھ دیر پہلے ختم ہوئی تھی، اس لیے کئی گھروں کی موٹریں ایک ساتھ چل رہی تھیں۔ ان کے گھر کی موٹر بھی کافی دیر سے گھرر گھرر کیے جا رہی تھی۔
وہ صحن کے کونے میں رکھی چارپائی پر بیٹھا موبائل کی اسکرین دیکھ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر وہی زردی پڑ رہی تھی جو اکثر سرکاری اسپتالوں کے برآمدوں میں لٹکتے بلبوں سے ٹپکتی ہے۔
اس نے لکھا:
کیا حال ہے؟
جواب فوراً آیا:
’الحمدللہ، شکریہ! آپ سنائیں ٹھیک ہیں؟‘
اسے عجیب لگا:
(کسی کو کیا معلوم ہو سکتا ہے کہ وہ ٹھیک ہے یا نہیں؟ وہ خود بھی تو برسوں سے یہ فیصلہ نہیں کر پایا تھا۔ اسے ہر بار یہ جملہ عجیب لگتا تھا۔ ’میں بالکل ٹھیک ہوں۔‘ گویا دنیا میں کہیں کوئی ایسی جگہ واقعی موجود ہے جہاں آدمی ٹھیک ہوتا ہے۔)
کافی دیر تک اسکرین پر تین نقطے ٹمٹماتے رہے۔
جیسے اندھیرے میں کوئی جگنو جل بجھ رہا ہو۔
اس نے کچھ دیر انگوٹھا اسکرین پر روکے رکھا، پھر لکھا: بیٹی ماہین ضد کر رہی ہے کہ عید پر نئے جوتے لینے ہیں لیکن ابھی تنخواہ نہیں آئی۔
جواب آنے میں چند لمحے لگے۔۔
اس دوران اندر سے ماہین کی آواز آئی:
بابا، وہ سفید والے اچھے لگ رہے تھے نا؟
اس نے جواب نہیں دیا۔
اسکرین پر لفظ نمودار ہوئے:
’ماہین کی عید کی خوشی سمجھ آتی ہے ۔‘ ۔ ۔
وہ پڑھتا گیا۔ لہجہ نرم تھا، حد سے زیادہ نرم۔ ایسا لہجہ جو دلاسہ بھی دیتا ہے اور آدمی کو ننگا بھی کر دیتا ہے۔
اسے محسوس ہوا جیسے کوئی ان کے گھر کے اندر بیٹھا سب دیکھ رہا ہو۔ ماہین کے پاؤں کا ناپ۔ اس کی بیوی کے ماتھے کی شکنیں۔ الماری میں رکھا بجلی کا نہ بھرا بل۔ اور وہ تنخواہ جو ہمیشہ آنے سے پہلے خرچ ہو جاتی تھی۔ یہاں تک کہ اس کے بٹوے میں پڑے آخری دو سو روپے۔
صحن میں نمی پھیل رہی تھی۔ دیوار کے ساتھ لگے پائپ سے باریک دھار بہہ رہی تھی۔ موٹر کی مسلسل آواز پورے گھر کے نیچے سے اٹھتی محسوس ہوتی تھی، جیسے زمین کے اندر کوئی تھکا ہوا جانور سانس لے رہا ہو۔
پھر بیوی کی آواز آئی:
’سن رہے ہیں؟ اس بار بکرا بھی لینا ہے۔‘
وہ خاموش رہا۔
’چھوٹی عید پر ماہین کے جوتے لے چکے ہیں۔ باقی بچے کیا سوتیلے ہیں؟‘
یہ جملہ آہستہ بولا گیا تھا، مگر اسے لگا جیسے کسی نے مہر لگا دی ہو۔ گھر میں اکثر فیصلے بحث سے نہیں، ایسے ہی ایک جملے سے ختم ہو جاتے تھے۔
اس نے دوبارہ موبائل کی طرف دیکھا۔
’بچوں کو limits سکھانا بھی تربیت کا حصہ ہے ۔‘ ۔ ۔
اس نے آہستہ سے پڑھا۔ پھر اگلی سطر:
’11 سال کے بچے وعدہ یاد رکھتے ہیں ۔‘ ۔ ۔
وہ رک گیا۔
یہی تو مسئلہ تھا۔
ماہین وعدہ یاد رکھتی ہے۔
اسے اچانک ایک پرانی عید یاد آئی۔ تب ماہین بہت چھوٹی تھی۔ بازار میں اس نے سرخ جوتوں کی طرف انگلی کی تھی۔ اس نے ہنس کر کہا تھا:
اگلی بار لے دوں گا۔
اور حیرت کی بات یہ تھی کہ بچی نے پورا سال وہ بات یاد رکھی تھی۔ اگلی عید پر سب سے پہلے اسی نے پوچھا تھا:
بابا، وہ اگلی بار آ گئی؟
اس دن وہ بہت دیر تک ہنستا رہا تھا۔ آج اسے وہ ہنسی یاد نہیں آ رہی تھی۔
اس نے ایک بار حساب لگانے کی کوشش کی۔ تنخواہ آئے گی۔ پہلے کریانے والے کے پیسے جائیں گے۔ پھر گیس، بجلی کا بل۔ پھر سکول کالجز کی فیسیں، پھر کسی بچے کی دوا۔ اور بکرا؟
ہر خرچہ ایسے سامنے آتا جیسے اندھیرے کمرے سے اچانک کوئی آدمی نکل آیا ہو۔ اور آخر میں، سب کے پیچھے، ماہین کے جوتے خاموش کھڑے رہ جاتے۔
اس نے لکھا:
’یار میں تو سوچ رہا تھا کسی نہ کسی طرح ماہین کو جوتے دلوا دوں۔‘
جواب فوراً آیا:
’تین بڑے مسئلے ایک ساتھ ہیں ۔‘ ۔ ۔
وہ پڑھتا گیا اور اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ شاید اس کی زندگی مسئلے نہیں، شقیں بن چکی ہے۔ جیسے کوئی غیر مرئی کلرک اس کے گھر کی روداد تیار کر رہا ہو۔
لیکن وہ سمجھ گیا کہ مسئلہ ایک ہی ہے، صرف شکل بدل رہا ہے:
پیسے کا دباؤ، اور اس کے نیچے دبے ہوئے وعدے۔
اسے اپنا دفتر یاد آیا۔ وہاں بھی فائلیں کبھی بند نہیں ہوتیں تھیں، صرف ایک میز سے دوسری میز پر منتقل ہو جاتی تھیں۔ شاید غربت بھی ایسی ہی چیز تھی۔ ختم نہیں ہوتی تھی، صرف شکل بدلتی رہتی تھی۔
ماہین اب صحن میں آ گئی تھی۔
’بابا ۔‘ ۔ ۔
وہ چونک کر اس کی طرف دیکھنے لگا۔
’اگر مہنگے والے نہ ملیں تو دوسرے لے لیں گے۔‘
اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ بچے ضد کم کرتے ہیں، خوف زیادہ چھپاتے ہیں۔
کیسا خوف؟ اس نے سوچا۔
شاید یہ کہ کہیں بڑے وعدہ نہ بھول جائیں۔
وہ چاہتا تھا کہ ایک بار، صرف ایک بار، وہ اپنی بیٹی کی نظروں میں چھوٹا ہو جائے تاکہ اخراجات برابر ہو سکیں۔
مگر باپ شاید اسی لمحے مرنا شروع ہوتا ہے جب وہ اپنی اولاد کی امید سے چھوٹا پڑ جائے۔
اس نے ماہین کے پاؤں دیکھے۔ چھوٹی عید والے جوتے واقعی ابھی خراب نہیں ہوئے تھے۔ مگر اسے معلوم نہیں کیوں ،،،،، اس لمحے وہ جوتے اسے بہت پرانے لگے۔ اتنے پرانے جیسے وہ ،،،،،،، ۔
سو جاؤ، اس نے دھیمی آواز میں کہا۔
’پندرہ تاریخ کو چلیں گے نا؟‘
وہ جواب نہ دے سکا۔
ماہین کچھ دیر دروازے میں کھڑی رہی، جیسے اس کے جواب کا انتظار کر رہی ہو۔ پھر خاموشی سے اندر چلی گئی۔
اسے محسوس ہوا کہ بچوں کے دل ٹوٹنے کی آواز نہیں آتی ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اسی لمحے بیوی کی تیز آواز آئی:
ذرا دیکھیں! ٹینکی بھر گئی ہے۔
وہ اٹھنے لگا ، ، ، ، مگر بیٹھا رہا۔
اسے اچانک لگا کہ پورا گھر بھرنے کے عمل میں ہے۔
ٹینکی پانی سے بھر رہی تھی۔ کچن دھویں سے۔ الماری بلوں سے۔ اور وہ ، ، ، ، ، ، وعدوں سے۔
اس نے موبائل کی طرف دیکھا۔ آخری پیغام آیا تھا:
’پہلے موٹر بند کریں ورنہ بل اور بڑھ جائے گا۔‘
وہ دیر تک اس جملے کو دیکھتا رہا۔
آج بھی ہر عید سے پہلے کی خاموشی نے اسے گھیر لیا۔ اور ماہین کی وہ ضد، جو ضد کم اور ایمان زیادہ لگتی تھی۔ کیونکہ اسے یقین تھا کہ ’بابا میری بات نہیں ٹالیں گے۔‘
یہی جملہ اسے سب سے زیادہ خوفزدہ کرتا تھا۔
وہ آخرکار اٹھا اور صحن میں آ گیا۔ ٹینکی واقعی اوورفلو ہو رہی تھی۔ پانی کناروں سے گر کر فرش پر پھیل رہا تھا اور نالی کی طرف بہہ رہا تھا۔
اس نے موٹر بند کی۔
گھر یکایک خاموش ہو گیا۔
اتنا خاموش کہ اسے پہلی بار اپنے اندر کی آواز سنائی دی۔
وہ کچھ دیر وہیں کھڑا رہا۔ پھر اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔
اسے لگا زندگی شاید یہی ہے:
ایک اوورفلو ہوتی ٹینکی۔ ایک نہ بھرا ہوا بل۔ ایک قربانی جو ہر سال کسی اور شکل میں مانگی جاتی ہے۔ اور ایک بچی، جو اب بھی یقین کیے بیٹھی ہے کہ اس کے بابا نظام کے خلاف جا سکتے ہیں۔
مگر خوفناک بات یہ نہیں تھی۔
سب سے خوفناک بات یہ تھی کہ یہ یقین اس کے اندر بیٹھنے لگا تھا۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













