بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی کا معاملہ، عظمیٰ خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا

پیر 11 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بانی پی ٹی آئی کی صحت اور ہسپتال منتقلی سے متعلق معاملے میں نیا موڑ سامنے آیا ہے جہاں عظمیٰ خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

درخواست گزار نے اپنے موقف میں یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنا فیصلہ سناتے وقت زمینی حقائق کو مکمل طور پر نظر انداز کیا ہے۔ درخواست میں یہ اعتراض اٹھایا گیا ہے کہ عدالت نے علاج کی فوری اور ضروری سہولیات فراہم کرنے کے بجائے محض ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا، جو کہ درپیش صورتحال کا حل نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی آنکھ کا علاج مکمل، پمز سے ڈسچارج

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ ہائیکورٹ کا یہ حکم با مقصد ثابت نہیں ہوا اور عدالت نے اس اہم پہلو کو بھی مدنظر نہیں رکھا کہ اس سے قبل دیے گئے عدالتی احکامات پر بھی انتظامیہ کی جانب سے عملدرآمد نہیں کیا گیا تھا۔

عظمیٰ خان کا کہنا ہے کہ اگرچہ وہ ہائیکورٹ میں فریق نہیں تھیں، لیکن اس معاملے سے براہِ راست جڑے ہونے کی بنا پر وہ ایک متاثرہ فریق کی حیثیت رکھتی ہیں اور اسی بنیاد پر سپریم کورٹ سے رجوع کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کا پمز میں طبی معائنہ اور علاج، حالت تسلی بخش قرار

سپریم کورٹ سے کی گئی استدعا میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے اور بانی پی ٹی آئی کو علاج کے لیے فوری طور پر ہسپتال منتقل کرنے کا حکم جاری کیا جائے۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ عدالت بانی پی ٹی آئی کی ان کے ذاتی معالجین سے ملاقات اور معائنے کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی احکامات جاری کرے۔ یہ قانونی پیش رفت آنے والے دنوں میں بانی پی ٹی آئی کی طبی سہولیات کے حوالے سے انتہائی اہمیت کی حامل تصور کی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp