ہیومنائیڈ روبوٹس کی حقیقت کیا ہے؟ ماہر نے بڑے دعوؤں پر سوال اٹھا دیا

پیر 11 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ٹیکنالوجی صحافی جیمز ونسنٹ نے مختلف ہیومنائیڈ روبوٹس کا عملی جائزہ لینے کے بعد کہا ہے کہ ان مشینوں کے حوالے سے کیے جانے والے دعوے حقیقت سے کہیں زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیے جارہے ہیں۔

ایک حالیہ پوڈکاسٹ گفتگو میں جیمز ونسنٹ نے بتایا کہ انہوں نے امریکی کمپنیوں ایپٹرونک اور ایجیلیٹی روبوٹکس سمیت کئی معروف اداروں کے روبوٹس کو قریب سے دیکھا اور ان کی صلاحیتوں کو جانچا۔ ان کے مطابق روبوٹس میں کچھ پیشرفت ضرور ہوئی ہے، تاہم انہیں چیٹ جی پی ٹی جیسی فوری ٹیکنالوجی انقلاب قرار دینا درست نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ہیومنائیڈ روبوٹس کس طرح انقلاب لارہے ہیں؟

ونسنٹ نے کہا کہ اگر چیٹ بوٹ تحقیق کے دوران غلطی کرے تو اس کا اثر محدود ہوتا ہے، لیکن اگر گھریلو روبوٹ برتن دھوتے ہوئے ہر 10 میں سے ایک کپ توڑ دے تو لوگ اسے قبول نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ہیومنائیڈ روبوٹس فلائنگ کارز جیسے تصور کے زیادہ قریب دکھائی دیتے ہیں، یعنی ایسی ٹیکنالوجی جس کے بارے میں برسوں سے بات تو ہو رہی ہے مگر وہ اب تک عام زندگی کا حصہ نہیں بن سکی۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ کی حکمت عملی مہنگے گھریلو روبوٹس متعارف کرانے پر مبنی ہے، جو امیر صارفین کے لیے بٹلر کے طور پر کام کرسکیں گے اور کپڑے دھونے یا برتن صاف کرنے جیسے کام انجام دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: چین : کنسرٹ میں گلوکار کے ساتھ ناچتے روبوٹس نے انٹرنیٹ پر دھوم مچا دی

دوسری جانب چین اس شعبے میں مختلف حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے، جہاں بڑھتی عمر کی آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے بڑے پیمانے پر روبوٹس تیار کرنے پر توجہ دی جارہی ہے۔ اندازوں کے مطابق 2040 تک چین کی 30 فیصد سے زائد آبادی 60 سال سے زیادہ عمر کی ہوگی۔

جیمز ونسنٹ کا کہنا تھا کہ آئندہ 3 سے 5 سال میں گھروں میں عام استعمال کے روبوٹس کی دستیابی کا امکان بہت کم ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp