ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے طلبا کی سہولت کے لیے ڈگریوں کی تصدیق کا مکمل طور پر آن لائن اور پیپر لیس نظام لانچ کردیا ہے۔
ایچ ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز احمد اختر کے مطابق اس نئے نظام (ڈی اے ایس) کی بدولت اب امیدواروں کو ڈگریوں کی تصدیق کے لیے ایچ ای سی کے دفاتر کے چکر لگانے یا اصل دستاویزات جمع کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: تعلیمی نظام کو عالمی معیار سے ہم آہنگ بنانے کا مشن، ایچ ای سی نے ڈگری پروگرامز کے لیے نئی پالیسی کی منظوری دیدی
ڈاکٹر نیاز احمد اختر کے مطابق یہ منصوبہ جدید ترین بلاک چین ٹیکنالوجی کی مدد سے مکمل کیا گیا ہے جس کا مقصد تصدیق کے عمل کو تیز رفتار، محفوظ اور شفاف بنانا ہے اور اس کے لیے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کی سفارشات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔
HEC has revamped the Degree Attestation System (DAS) by introducing a fully online and paperless attestation mechanism to facilitate students and graduates across Pakistan.
Under the new system, applicants will no longer be required to physically visit HEC offices or submit…
— Niaz Ahmad Akhtar (@DrNiazAhmadSI) May 11, 2026
اس جدید ترین سسٹم کے تحت طلبہ ایچ ای سی کے ای سروسز پورٹل کے ذریعے دن کے 24 گھنٹے کسی بھی وقت اپنی درخواستیں آن لائن جمع کرا سکتے ہیں۔ طریقہ کار کے مطابق امیدواروں کو پورٹل پر اپنا اکاؤنٹ بنا کر تعلیمی تفصیلات فراہم کرنی ہوں گی اور اپنی اسناد اپ لوڈ کرنی ہوں گی، جن کی اسکروٹنی ایچ ای سی اور متعلقہ جامعات آن لائن ہی کریں گی۔
فیسوں کی ادائیگی کے عمل کو بھی آسان بناتے ہوئے اسے ون لنک کے ذریعے آن لائن ادائیگی سے جوڑ دیا گیا ہے تاکہ طلبہ کو بینکوں کی طویل قطاروں سے بچایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: اعلیٰ تعلیم کے مستقبل میں مصنوعی ذہانت کلیدی کردار ادا کرے گی، چیئرمین ایچ ای سی
پہلے سے رائج مینوئل سسٹم کے برعکس، جس میں دستاویزات ڈاک کے ذریعے بھیجنی پڑتی تھیں یا ذاتی طور پر ایچ ای سی کے دفتر حاضر ہونا پڑتا تھا، اب حتمی جانچ پڑتال کے بعد ایک ڈیجیٹل ای سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا۔
امیدواروں کو ان کی درخواست کی منظوری کے حوالے سے ایس ایم ایس اور ای میل کے ذریعے مطلع کیا جائے گا، جس کے بعد وہ اپنے پورٹل اکاؤنٹ سے تصدیق شدہ سرٹیفکیٹ ڈاؤن لوڈ کر سکیں گے۔
اس انقلابی اقدام سے نہ صرف طلبہ کے وقت اور اخراجات کی بچت ہوگی بلکہ ڈگریوں کی تصدیق کے عمل میں انسانی مداخلت کم ہونے سے شفافیت بھی بڑھے گی۔














