سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور پاکستان کی جانب سے جاری سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، خطے کی بدلتی صورت حال پر تبادلہ خیال
سعودی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات اور پاکستان کی ثالثی سے متعلق پیشرفت کا جائزہ لیا۔
دوسری جانب سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے بھی ٹیلیفون پر گفتگو کی، جس میں خطے کی تازہ صورتحال، امن و استحکام اور سفارتی اقدامات پر بات چیت کی گئی۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق سعودی وزیر خارجہ نے خطے میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا اور ایران و امریکا کے درمیان جاری رابطوں میں اسلام آباد کی سفارتی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے آبنائے ہرمز سمیت سمندری راستوں کی سیکیورٹی کی اہمیت پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے اور عالمی صورتحال پر قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے گا۔
مزید پڑھیے: خطے میں کشیدگی کے باوجود معیشت میں استحکام برقرار ہے، وفاقی وزرا، سعودی عرب کی جانب سے تعاون کو سراہا
یاد رہے کہ گزشتہ روز سعودی وزیر خارجہ نے قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کیا تھا جس میں خطے کی تازہ صورتحال زیر غور آئی تھی۔
🇸🇦📞🇮🇷 | Foreign Minister HH Prince @FaisalbinFarhan received a phone call from Iranian Foreign Minister Abbas Araghchi. pic.twitter.com/ww9HtULUpC
— Foreign Ministry 🇸🇦 (@KSAmofaEN) May 11, 2026
سعودی عرب پہلے ہی ایران اور امریکا کے درمیان سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں اور ثالثی کی حمایت کا اعلان کر چکا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کے روز تصدیق کی تھی کہ پاکستان کو جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کی تجویز پر ایران کا جواب موصول ہو چکا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان نے 8 اپریل کو تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا تھا، جس کے بعد امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں عارضی کمی آئی۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب میں عازمین حج کے لیے ڈیجیٹل سہولتوں میں اضافہ
بعد ازاں 11 اپریل کو اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان اہم براہ راست مذاکرات بھی ہوئے تھے۔ اگرچہ ان مذاکرات میں کوئی حتمی معاہدہ نہ ہو سکا تاہم اس عمل نے دونوں ممالک کے درمیان مزید مذاکرات کی راہ ہموار کی۔
یہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی تھی جب امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے کیے جس کے جواب میں تہران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک کے خلاف کارروائیاں کیں۔ اس صورتحال کے باعث آبنائے ہرمز کے اطراف سمندری آمدورفت بھی متاثر ہوئی۔
یہ بھی پڑھیے: سعودی طلبا نے ریاضی اولمپیاڈ میں 2 طلائی تمغے جیت لیے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان آئندہ ہفتے ہی امن معاہدہ طے پانے کا امکان موجود ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے سمیت کسی ممکنہ معاہدے کو قبول نہ کیا تو فوجی کارروائی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔














