امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس ہفتے اپنے دورۂ چین کے دوران کاروباری اور ٹیکنالوجی شعبے کی بڑی امریکی شخصیات کو بھی ساتھ لے جائیں گے۔
بی بی سی کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ مجموعی طور پر 17 امریکی کاروباری شخصیات سرکاری وفد کا حصہ ہوں گی۔
وفد میں ٹم کک، ایلون مسک، لیری فنک سمیت بوئنگ، جے پی مورگن، ویزا، میٹا اور کارگل جیسی کمپنیوں کے اعلیٰ حکام بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا چین سے کیوں الجھنا نہیں چاہتا؟
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکا اور چین کے درمیان معاشی اور ٹیکنالوجی شعبوں میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
ٹرمپ اپنے دورے کے دوران چینی صدر شی جی پنگ سے ملاقات کریں گے، جسے دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
وفد میں شامل دیگر نمایاں شخصیات میں مائیکل می باخ، ڈیناپاول مک کورمک، رائن مک آئنرنی، اسٹیفن شوارزمن، برائن سائیکس، جین فریزر اور ڈیوڈ سولومن بھی ہیں۔
President Donald Trump invited executives including Elon Musk, Tim Cook and Larry Fink to join his trip to China this week.pic.twitter.com/Iabai4z3MW
— Nizam Tellawi (@nizamtellawi) May 11, 2026
تاہم کمپیوٹر چپس اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں امریکا اور چین کی رقابت کے تناظر میں جینسن ہوانگ کی عدم موجودگی خاص طور پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
گزشتہ ہفتے انہوں نے امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی سے گفتگو میں کہا تھا کہ اگر انہیں دعوت دی جاتی تو چین میں امریکا کی نمائندگی کرنا ان کے لیے اعزاز ہوتا۔
اسی طرح چک رابنس کو بھی وفد میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی تھی، تاہم کمپنی کے مطابق مالی نتائج کے اعلانات کے باعث وہ اس دورے میں شریک نہیں ہو سکیں گے۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر کے درمیان متوقع ملاقات کے حوالے سے غیریقینی صورتحال برقرار
امریکی وفد سوشل میڈیا، صارفین کی ٹیکنالوجی، کمپیوٹر چپس، مالیاتی خدمات اور صنعتی پیداوار سمیت مختلف شعبوں کی نمائندگی کرے گا۔
الومینا کی ترجمان نے کہا ہے کہ کمپنی کو امید ہے کہ یہ دورہ تعلقات مضبوط بنانے اور ’پریسیژن میڈیسن‘ کے مستقبل کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوگا۔
ٹرمپ کا دورۂ چین دونوں ممالک کے درمیان نازک تجارتی جنگ بندی کا بھی اہم امتحان سمجھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران معاہدے میں چین کی انٹری، بڑی ہلچل
اس سے قبل دونوں ممالک ایک دوسرے پر 100 فیصد سے زائد ٹیرف عائد کر چکے ہیں۔
مذکورہ ٹیرف اکتوبر 2025 میں جنوبی کوریا میں ٹرمپ اور شی جن پنگ کی آخری ملاقات کے بعد عارضی طور پر معطل کیے گئے تھے۔
دوسری جانب امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ بھی آئندہ ملاقات پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں:
اطلاعات کے مطابق یہی تنازع ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ بنا۔
امریکہ توقع کر رہا ہے کہ چین، جو ایران سے سستا تیل درآمد کرتا ہے، تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدے میں کردار ادا کرے گا۔
اگرچہ چین بھی اس تنازع کے خاتمے کا خواہاں ہے، تاہم اس کی وسیع تیل ذخائر اور متنوع توانائی ذرائع نے اسے خطے کے کئی دیگر ممالک کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں رکھا ہوا ہے۔














