دفترِ خارجہ نے امریکی نشریاتی ادارے کی اس رپورٹ کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں نور خان ایئربیس پر ایرانی طیاروں کی موجودگی سے متعلق دعوے کیے گئے تھے۔
ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق یہ رپورٹ گمراہ کن، سنسنی خیز اور علاقائی امن و استحکام کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔
مزید پڑھیں: سعودی وزیر خارجہ کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان پہنچ گیا، نور خان ایئربیس پر استقبال
ترجمان نے وضاحت کی کہ جنگ بندی کے بعد اسلام آباد مذاکرات کے ابتدائی مرحلے کے دوران ایران اور امریکا کے متعدد طیارے پاکستان آئے تھے تاکہ سفارتی عملے، سیکیورٹی ٹیموں اور انتظامی اہلکاروں کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کی جا سکے۔
بعض طیارے اور معاون عملہ آئندہ مذاکراتی مراحل کی توقع میں عارضی طور پر پاکستان میں موجود رہے۔
🔊PR No.1️⃣1️⃣6️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Official Response to CBS Report on Iranian Aircraft in Pakistan
🔗⬇️ pic.twitter.com/ZqJw28nNaK— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) May 12, 2026
بیان کے مطابق اگرچہ باضابطہ مذاکرات دوبارہ شروع نہیں ہوئے، تاہم اعلیٰ سطح کے سفارتی رابطے جاری ہیں۔ اسی تناظر میں ایرانی وزیر خارجہ کے اسلام آباد کے دوروں کے لیے موجودہ انتظامی اور لاجسٹک سہولیات استعمال کی گئیں۔
دفترِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان میں موجود ایرانی طیاروں کا کسی فوجی ہنگامی صورتحال یا حفاظتی انتظام سے کوئی تعلق نہیں، اس حوالے سے کیے جانے والے تمام دعوے قیاس آرائی، گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہیں۔
مزید پڑھیں: بھارت نے نور خان ایئربیس، مرید کے اور شور کوٹ میں حملے کیےاب ہمارے جواب کا انتظار کرے
ترجمان کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ غیر جانبدار، تعمیری اور ذمہ دار سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے اور کشیدگی میں کمی، مذاکرات کے فروغ اور علاقائی و عالمی امن و سلامتی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔














