گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان نے پیٹرول، ڈیزل اور خام تیل کی درآمد پر کھربوں روپے خرچ کیے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق ملک نے پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد کے لیے مجموعی طور پر 10 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ استعمال کیا۔
مزید پڑھیں: سینیٹ کمیٹی کا پیٹرول بحران، گیس لوڈشیڈنگ اور ایل پی جی قیمتوں میں اضافے پر سخت نوٹس
دستاویز کے مطابق گزشتہ ایک سال میں 53 لاکھ 53 ہزار 23 میٹرک ٹن پیٹرول درآمد کیا گیا، جس کی مالیت 3 ارب 989 ملین امریکی ڈالر ہے، یہ رقم قریباً 1 ہزار 116 ارب پاکستانی روپے بنتی ہے۔
اسی عرصے میں 19 لاکھ 96 ہزار 377 میٹرک ٹن ڈیزل درآمد کیا گیا، جس پر 1 ارب 352 ملین امریکی ڈالر خرچ ہوئے، جو پاکستانی کرنسی میں قریباً 378 ارب 56 کروڑ روپے بنتے ہیں۔
ایک سال کے دوران 92 لاکھ 61 ہزار 225 میٹرک ٹن خام تیل درآمد کیا گیا، جس کی مالیت 5 ارب 461 ملین امریکی ڈالر رہی، جو پاکستانی روپے میں قریباً 1 ہزار 529 ارب روپے کے برابر ہے۔
دستاویز کے مطابق اس وقت پاکستان کے پاس پیٹرول کے 31 دنوں کا 6 لاکھ 53 ہزار میٹرک ٹن، ڈیزل کے 25 دنوں کا 5 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن اور خام تیل کے 14 دنوں کا 5 لاکھ 37 ہزار میٹرک ٹن کے ذخائر موجود ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران اسرائیل کشیدگی: پاکستان میں کونسی اشیا مہنگی ہوسکتی ہیں؟
سرکاری دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اپنی بیشتر پیٹرولیم مصنوعات خلیجی ممالک، خصوصاً عمان، سے درآمد کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق تیل کی درآمدات پر بھاری زرمبادلہ خرچ ہونے سے ملکی تجارتی خسارے اور زرِمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ برقرار ہے۔














