سینیٹ کمیٹی کا پیٹرول بحران، گیس لوڈشیڈنگ اور ایل پی جی قیمتوں میں اضافے پر سخت نوٹس

پیر 11 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر، گیس کی فراہمی میں تعطل، ایل پی جی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور خیبرپختونخوا میں سی این جی کی بندش پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے تفصیلی رپورٹس طلب کر لی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، پیٹرول فی لیٹر 14 روپے 92 پیسے، ڈیزل فی لیٹر 15 روپے مہنگا

چیئرمین سینیٹر عمر فاروق کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں پیٹرول، ڈیزل، خام تیل، ایل این جی اور ایل پی جی کے موجودہ ذخائر اور درآمدی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

وزارت پیٹرولیم کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ عالمی سطح پر بالخصوص امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اور درآمدی مشکلات کے باعث حکومت کو بعض اہم شعبوں کو ترجیح دینا پڑی ہے۔ حکام کے مطابق کھاد کے بحران سے بچنے کے لیے گیس یوریا فیکٹریوں کو فراہم کی گئی۔

کمیٹی اراکین نے گزشتہ ماہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سوال اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ ذخائر کے باوجود قیمتیں بڑھانے سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو فائدہ پہنچا۔

اس پر حکام نے وضاحت دی کہ عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال اور ممکنہ قلت سے بچنے کے لیے قیمتوں میں ردوبدل کیا گیا۔

مزید پڑھیے: ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، بلوچستان میں عوام کو کن مشکلات کا سامنا ہے؟

اجلاس میں بتایا گیا کہ کراچی پورٹ پر ایل این جی کارگو کی آمد متوقع ہے، جبکہ اوگرا، ایف آئی اے اور دیگر اداروں پر مشتمل مشترکہ اسٹاک مانیٹرنگ نظام بھی قائم کر دیا گیا ہے۔

کمیٹی نے تمام اسٹاک اور سپلائی سے متعلق تفصیلی رپورٹس فوری طور پر طلب کر لیں۔

کمیٹی نے بلوچستان میں طویل گیس لوڈشیڈنگ اور مقامی گیس پیدا کرنے والے علاقوں کو کنکشن نہ دینے پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا۔ حکام نے اس کی وجہ فنڈز کی کمی قرار دی۔

مزید پڑھیں: ’بجلی بند، گیس بند، کاروبار بند، عوام کی زبان بند، حکمرانوں کی آنکھیں بند‘، بدترین لوڈ شیڈنگ پر صارفین برہم

ایل پی جی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور سرکاری نرخوں سے زائد وصولی پر چیئرمین کمیٹی نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کو سخت کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔

اجلاس میں خیبرپختونخوا میں سی این جی اسٹیشنز کی بندش کا معاملہ بھی زیر غور آیا جہاں حکام نے بتایا کہ آر ایل این جی کی درآمد متاثر ہونے اور آبنائے ہرمز سے متعلق خدشات کے باعث گیس سپلائی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: سوئی سدرن نے کراچی میں گیس لوڈشیڈنگ کا شیڈول جاری کردیا

کمیٹی نے پنجاب کے آر ایل این جی پاور پلانٹس کو ترجیحی بنیادوں پر گیس فراہمی پر بھی سوالات اٹھائے اور پیٹرولیم ڈویژن سے مکمل ترجیحی فریم ورک طلب کر لیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp