پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے روپوش رہنما اور سابق وفاقی وزیر مراد سعید نے بڑے عرصے بعد ایک تفصیلی انٹرویو دیا ہے جس میں انہوں نے اپنی روپوشی سے لے کر پارٹی کے معاملات اور عمران خان کی رہائی کے حوالے سے تفصیل سے بات کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی رہنما مراد سعید غائب رہ کر کیسے پارٹی نوجوانوں کو متحرک کیے ہوئے ہیں؟
مراد سعید نے اپنی طویل روپوشی کے دوران پہلی بار تفصیلی انٹرویو دیا ہے۔ اس سے پہلے وہ اپنے سوشل میڈیا کے ذریعے پیغامات دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے یہ انٹرویو اپنے ہی ساتھی شہزاد اکبر کو دیا ہے، جو انہوں نے اپنے یوٹیوب چینل کے لیے کیا ہے۔ جبکہ پی ٹی آئی سوشل میڈیا پر بھی اس انٹرویو کی تشہیر کی گئی ہے۔
کیا مراد سعید نے واقعی انٹرویو دیا یا یہ اے آئی سے تیار کیا گیا؟
مراد سعید کا پہلا تفصیلی انٹرویو منظرِ عام پر آنے کے بعد کچھ سوالات بھی اٹھنے لگے کہ آیا یہ انٹرویو اصلی ہے یا مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیا گیا ہے، کیونکہ مراد سعید کا کسی سے کوئی براہِ راست رابطہ نہیں ہے۔ تاہم انٹرویو کرنے والے شہزاد اکبر نے آغاز میں بتایا کہ کافی عرصے سے ان کی کوشش تھی اور کافی وقت کے بعد انہیں یہ موقع ملا۔
پاکستان تحریک انصاف نے تصدیق کی ہے کہ انٹرویو اصلی ہے۔ پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات اکرام خٹانہ نے وی نیوز کو بتایا کہ مراد سعید نے واقعی انٹرویو دیا ہے اور یہ اصلی ہے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے ویڈیو بنانے کی تردید کی۔
انٹرویو ریکارڈ تھا یا لائیو؟
شہزاد اکبر نے اپنے انٹرویو میں مراد سعید کا تعارف کروایا اور ایسا تاثر دیا کہ انٹرویو براہِ راست ہے اور مراد سعید ان کے ساتھ لائیو موجود ہیں۔ جب گفتگو شروع ہوئی تو اسکرین پر مراد سعید ویڈیو میں نظر آئے اور ویڈیو کو روکا گیا، جس کے بعد شہزاد اکبر نے اپنی باری پر بات شروع کی۔
انٹرویو کے آغاز میں مراد سعید کا بیک گراؤنڈ سیاہ ہے اور ایسا لگتا ہے کہ وہ کسی کمرے میں بیٹھے ہیں اور پیچھے پردے لگے ہوئے ہیں، لیکن اس کے فوراً بعد بیک گراؤنڈ تبدیل ہو جاتا ہے اور پی ٹی آئی کے پرچم کا بیک گراؤنڈ آ جاتا ہے، جس کے بعد ویڈیو کی کوالٹی بھی خراب ہو جاتی ہے۔ ایک گھنٹے سے زائد دورانیے کے اس انٹرویو میں مراد سعید شہزاد اکبر کے سوالات کے جواب دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مراد سعید کی خالی نشست پر نامزد سینیٹ امیدوار کون سے اہم کیس میں نامزد ہیں؟
پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے بتایا کہ انٹرویو لائیو نہیں بلکہ ریکارڈ شدہ تھا، اور پارٹی کے کچھ خاص لوگوں کو اس انٹرویو کا پہلے سے علم تھا۔ انہوں نے بتایا کہ انٹرویو کو اچھی طرح ایڈٹ اور درست کرنے کے بعد ہی اپ لوڈ کیا گیا۔
میری معلومات کے مطابق مراد سعید نے اپنے قریبی ساتھیوں سے مشاورت کے بعد ہی انٹرویو دیا ہے۔ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ انہیں بات کرنے کا کہا گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی معلومات کے مطابق شہزاد اکبر کی جانب سے سوالات بھیجے گئے تھے، جبکہ مراد سعید نے ویڈیو میں ان کے جواب دیے۔ اس کے علاوہ بہت سی باتیں انہوں نے خود سے بھی کیں، جنہیں بعد میں شہزاد اکبر نے اپنی ریکارڈنگ کے دوران شامل کیا۔
مراد سعید کا انٹرویو کس طرح ممکن ہوا اور وہ کن لوگوں سے رابطے میں ہیں؟
پاکستان تحریک انصاف مراد سعید کی روپوشی اور ممکنہ ٹھکانے کے حوالے سے کچھ بھی بتانے سے قاصر ہے۔ پارٹی رہنماؤں کے مطابق مراد سعید، جو کئی کیسز میں پولیس کو مطلوب ہیں، عمران خان کی ہدایت پر روپوش ہیں، اور ان کے خاندان کو بھی علم نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔ تاہم کچھ رہنما بتاتے ہیں کہ مراد سعید پارٹی کے کچھ خاص لوگوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، اور پارٹی معاملات اور صوبائی حکومت سے متعلق فیصلہ سازی میں ان کی باقاعدہ رائے شامل ہوتی ہے۔
پی ٹی آئی کے ایک اہم رہنما نے بتایا کہ مراد سعید کے حوالے سے کچھ خاص لوگوں کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایسی اطلاعات بھی تھیں کہ 2024 میں حکومت بننے کے بعد وہ پشاور آئے تھے، اور ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے بھی مارے گئے تھے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سہیل آفریدی کو بھی لانے میں ان کا ہاتھ تھا، تاہم مراد سعید نے اپنے انٹرویو میں اس کی تردید کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مراد سعید کہاں روپوش ہیں، صوبائی وزیر شفقت ایاز نے کیا بتایا؟
انہوں نے بتایا کہ سینیٹ انتخابات کے دوران کچھ رہنماؤں کی ان سے ملاقات کی بھی اطلاعات تھیں، جو فارم پر ان کے دستخط لینے کے لیے ان کے پاس گئے تھے۔
پی ٹی آئی رہنما نے بتایا کہ ان کی معلومات کے مطابق مراد سعید کافی مشکلات میں ہیں اور ان کی صحت بھی کافی خراب ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مراد سعید کے والد اور والدہ بھی بیمار ہیں۔
جب پی ٹی آئی رہنما مراد سعید کے والد سے ملے تو انہوں نے پوچھا کہ اگر کسی سے ملاقات ہوئی ہو تو بتائیں کہ وہ کیسے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مراد سعید کا پارٹی کے لوگوں سے رابطہ ہے اور وہ ہدایات بھی دیتے رہتے ہیں۔ صحافی و تجزیہ کار کامران علی کا ماننا ہے کہ مراد سعید روپوش ضرور ہیں، لیکن ان کا اپنی پارٹی کے کئی قریبی ساتھیوں اور فیملی کے ساتھ رابطہ برقرار ہے، جس کی تصدیق کئی بار ہوچکی ہے۔
یعنی سوشل میڈیا پر موجودگی، جلسے جلوسوں کے لیے ویڈیو پیغامات جاری کرنا یا اس طرح کا انٹرویو۔ مراد سعید اب کہاں ہیں، یہ بات کوئی بتانے کو تیار نہیں کیونکہ جب بھی جن لوگوں سے ملاقات ہوئی ہے تو ان سے حلف لیا گیا کہ وہ کسی صورت کسی کو نہ بتائیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پولیس سمیت مختلف اداروں کے اہلکار یا افسران بھی مراد سعید کو گرفتاری سے بچانے کے لیے ان کی سہولتکاری کرتے ہیں، کیونکہ ماضی میں کئی مرتبہ مراد سعید کی موجودگی کی اطلاع پر مختلف جگہوں پر چھاپے مارے گئے، لیکن پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی مراد سعید وہاں سے نکل چکے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: حماد اظہر کے بعد کیا مراد سعید بھی روپوشی ختم کرکے منظر عام پر آ رہے ہیں؟
کامران علی نے بتایا کہ قوی امکان ہے کہ مراد سعید پاکستان میں ہی ہیں اور انہیں انٹرنیٹ سمیت تمام سہولیات دستیاب ہیں۔
وہ کسی دور افتادہ پہاڑی علاقے یا شہر سے دور نہیں ہوسکتے۔ وہ جہاں بھی ہیں، کسی شہری علاقے میں ہیں جہاں تمام سہولیات تک آسان رسائی موجود ہے۔
صحافی و تجزیہ کار محمد فہیم کا ماننا ہے کہ مراد سعید کا انٹرویو لائیو نہیں بلکہ ریکارڈ شدہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ مراد سعید کچھ خاص لوگوں سے رابطے میں ہیں اور اپنے انٹرویو میں انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ موجودہ سیٹ اپ سے مطمئن نہیں ہیں۔
مراد سعید ہمیشہ کسی کی ذمہ داری نہیں لیتے، اور اس انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ سہیل آفریدی کو لانے میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔
انہوں نے بتایا کہ مراد سعید کے لیے انٹرویو دینا یا کوئی پیغام جاری کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ وہ یہ سب کچھ پارٹی کے یوتھ ونگ کے کچھ قریبی ساتھیوں کے ذریعے کرسکتے ہیں۔













