بدنام زمانہ منشیات فروش انمول عرف پنکی کو عدالت میں پیشی کے دوران شاہانہ پروٹوکول دینے کے معاملے پر سندھ پولیس کے اعلیٰ حکام نے سخت ایکشن لیتے ہوئے ایس ایچ او گارڈن حنیف سیال، انویسٹی گیشن آفیسر (آئی او) سعید احمد اور ایس آئی یو انسپکٹر ظفر اقبال کو فی الفور معطل کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی کی بغیر ہتھکڑی عدالت میں پیشی، آئی جی سندھ کا قواعد کی خلاف ورزی پر نوٹس
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو اور وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار کے سخت نوٹس کے بعد یہ بڑی محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی ہے، جس کے تحت معطل ہونے والے افسران کو اپنی پوزیشنز چھوڑ کر گارڈن ہیڈ کوارٹر رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
واقعے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے آئی جی سندھ نے اس پورے معاملے کی باقاعدہ اور شفاف انکوائری ایس ایس پی ساؤتھ کے سپرد کردی ہے، جو اس بات کا تعین کریں گے کہ کس کے ایما پر اور کن مقاصد کے تحت ایک بدنام زمانہ ملزمہ کو سرکاری سیکیورٹی کی آڑ میں وی آئی پی پروٹوکول فراہم کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: آئی جی سندھ کے بعد وزیر داخلہ کا بھی نوٹس، منشیات فروش کی پیشی پر غفلت برتنے والے اہلکاروں کے گرد گھیرا تنگ
میڈیا رپورٹس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ممکنہ طور پر ایس ایچ او کی ہدایت پر ملزمہ کو گاڑی میں بیٹھا کر عدالت لایا گیا۔ واقعہ کی انکوائری ایس ایس پی سائوتھ مہزور علی کے سپرد کردی گئی ہے۔
قبل ازیں ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے انمول عرف پنکی کو بغیر ہتھکڑی عدالت میں پیش کرنے کے معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی ساؤتھ سے فوری رپورٹ طلب کی۔
کراچی پولیس چیف نے متعلقہ افسران کے کردار کے تعین کیلئے انکوائری کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ قانون اور ایس او پیز کی خلاف ورزی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی، کراچی پولیس کے تمام افسران و اہلکار قواعد و ضوابط کے پابند ہیں۔














