اگر آپ نے نیٹ فلکس سیریز بریکنگ بیڈ نہیں دیکھی تو کوکین کوئین انمول عرف پنکی کے بارے میں پڑھ لیں کیوں کہ وہ ایک سیریز تھی اور یہ حقیقی دنیا ہے جہاں کوکین کو مزید مہلک بنانے کے لیے نہ صرف لیبارٹری قائم کی گئی بلکہ کوکین میں کیمیکلز شامل کرکے نشے کو مزید بڑھا دیا گیا۔
انمول عرف پنکی کے بارے میں پولیس کے قریبی ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ اسے حساس ادارے نے تحویل میں لیا تھا جس کے بعد اسے گارڈن پولیس کے حوالے کیا گیا اور گارڈن پولیس نے ہی اس کی گرفتاری ظاہر کی۔
یہ بھی پڑھیں: ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی کی بغیر ہتھکڑی عدالت میں پیشی، آئی جی سندھ کا قواعد کی خلاف ورزی پر نوٹس
انمول عرف پنکی کے بارے میں ملنے والی معلومات کے مطابق اس نے کراچی سے کوکین کے دھندے کا آغاز کیا۔ اس دوران اسے درخشاں پولیس نے حراست میں لیا اور پھر یہ ضمانت پر باہر آئی اور وہیں سے دوبارہ اپنے دھندے کا آغاز کیا۔
انمول کے بارے میں ایک ذریعے نے معلومات دی ہیں کہ جب اس نے ضمانت حاصل کرنے کے بعد پھر سے کوکین کا دھندا شروع کیا تو ایک بار پھر اسے گرفتار کرنے کے لیے پولیس متحرک ہوئی۔ یہ جان کر انمول عرف پنکی نے کراچی کو خیر باد کہا اور دھندے سمیت لاہور منتقل ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیں: انمول عرف پنکی کیسے کراچی میں کروڑوں روپے مالیت کی منشیات کا دھندا چلاتی تھی؟
انمول کے دھندے کے بارے میں بھی سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں، نام کی طرح پنکی نے کام بھی انمول کیا اور دھندے کو ایک نئی جہت دے کر باقاعدہ ایک لیبارٹری قائم کی، جی ہاں بالکل ایسی لیبارٹری جو نیٹ فلکس سیریز بریکنگ بریڈ میں قائم کی گئی۔
اس لیبارٹری سے بریکنگ بیڈ ہی کی طرح منشیات بننا شروع ہوئیں لیکن پنکی کیپسول بناتی تھی جس کی قیمت جان کر مزید حیرانی ہوتی ہے۔ ایک کیپسول تھا جس کی قیمت 10 ہزار روپے بتائی جا رہی ہے۔ اس کیپسول میں ایفاٹین اور ٹیٹامائین جیسے کیمیکل ملا کر کوکین کو مزید مہلک بنایا جاتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: منشیات فروش ‘پنکی’ کو پروٹوکول دینا مہنگا پڑ گیا، ایس ایچ او گارڈن سمیت 3 افسران معطل
ایک اور کیپسول تھا جس کی قیمت 20 ہزار روپے جبکہ ایک کیپسول جس کا نام گولڈ بتایا جا رہا ہے، اس کی قیمت 40 ہزار روپے تک تھی۔ انمول ان منشیات کو ڈبوں میں پیک کرتی تھی جس پر باقاعدہ برانڈنگ ہوئی تھی۔ ان ڈبوں پر ڈان نام ہی کافی ہے لکھا ہوتا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق وہ ڈبیاں پولیس اپنی تحویل میں لے چکی ہے۔ ان ڈبیوں کے بارے میں پولیس کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ یہ سنہری اور سفید رنگ کی ہیں اور انہیں دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا اور انہی میں کوکین فراہم کی جاتی تھی۔
پنکی کا اصل ہدف 16 سے 20 برس کے نوجوان تھے جن میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل تھے۔ انہیں کوکین کا پہلے عادی بنایا جاتا تھا اور پھر انہی کے ذریعے کوکین سپلائی بھی کی جاتی تھی۔ کہا جا رہا ہے کہ اس کے زیادہ گاہک امیر گھرانوں کے نوجوان تھے، ساتھ ہی پارٹیوں میں بھی یہ کوکین سپلائی کرتی تھی اور شوبز شخصیات بھی اس سے کوکین خریدتی تھیں۔














