قومی سیاست میں حالیہ اہم ملاقاتوں کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث نے جنم لے لیا ہے جبکہ مختلف نوعیت کی قیاس آرائیاں بھی زور پکڑ رہی ہیں۔ اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان بڑھتے رابطوں اور خیبر پختونخوا میں ہونے والی اہم سیاسی ملاقاتوں نے یہ سوال مزید اہم بنا دیا ہے کہ آیا ملک میں کسی بڑی سیاسی پیشرفت یا تبدیلی کی تیاری کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمان کی شاہد آفریدی کی رہائشگاہ آمد، فلاحی کاموں پر سابق کپتان کی تعریف
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ملاقات کی ہے جس میں مجموعی سیاسی صورتحال، پارلیمانی امور اور ملک میں جاری سیاسی کشیدگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں اپوزیشن جماعتوں کے درمیان تعاون بڑھانے اور پارلیمانی معاملات میں مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر بھی مشاورت ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے اپوزیشن جماعتوں کے درمیان رابطوں کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانے پر اتفاق کیا۔
دوسری جانب دو روز قبل پشاور میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر، محمود شاہ، سلیم الرحمن اور سعید اللہ بھی شریک تھے۔
ملاقات کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں کہ آیا خیبر پختونخوا یا وفاقی سطح پر کسی اہم سیاسی تبدیلی یا پیش رفت کا امکان ہے۔
مزید پڑھیے: مولانا فضل الرحمان کے قومی و علاقائی معاملات میں کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، عالیہ کامران
ان ملاقاتوں کے بعد بعض سیاسی حلقوں میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی تبدیلی سے متعلق قیاس آرائیاں بھی سامنے آ رہی ہیں جبکہ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق وزیراعلیٰ یا گورنر خیبر پختونخوا کی تبدیلی کے امکانات پر بھی گفتگو ہو رہی ہے۔ تاہم ان تمام قیاس آرائیوں کے باوجود مجموعی سیاسی منظرنامہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکا۔
سینیئر تجزیہ کار حماد حسن کے مطابق حالیہ ملاقاتوں سے یہ تاثر ضرور مل رہا ہے کہ خیبر پختونخوا کی سیاست میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور بعض دیگر شخصیات کے درمیان پہلے سے موجود اختلافات مزید گہرے ہو رہے ہیں جبکہ بعض حلقوں میں کرپشن الزامات کے باعث مزاحمت بھی پائی جاتی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے اندر ایک نیا دھڑا ابھرتا ہوا دکھائی دے رہا ہے اور مراد سعید مبینہ طور پر سوات سے رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر امجد کو آگے لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حماد حسن کے مطابق اگر اپوزیشن اور پاکستان تحریک انصاف کا کوئی دھڑا ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر آتا ہے تو خیبر پختونخوا میں نئی سیاسی صف بندی سامنے آ سکتی ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال ابھی غیر یقینی ہے اور اس حوالے سے حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ ان کے مطابق آنے والے دنوں میں سیاسی صورتحال مزید واضح ہونے کا امکان ہے۔
مزید پڑھیں: تحریک تحفظ آئین پاکستان کا ملک گیر احتجاج، محمود خان اچکزئی منظرِ سے غائب
سینیئر تجزیہ کار ماجد نظامی نے کسی فوری بڑی تبدیلی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں کسی نئے اپوزیشن اتحاد یا حکومت مخالف تحریک کی گنجائش کم دکھائی دیتی ہے۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت اس وقت پارلیمان میں مضبوط پوزیشن رکھتی ہے اور حالیہ سیاسی حالات کے بعد حکومتی اعتماد میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ پیٹرولیم قیمتوں کے معاملے پر عوامی غم و غصہ موجود ہے تاہم گرمیوں کے موسم میں کسی بڑی احتجاجی تحریک کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔ ماجد نظامی کے مطابق اسد قیصر اور فیصل کریم کنڈی کی ملاقات زیادہ تر خیبر پختونخوا کے صوبائی معاملات کے گرد گھومتی نظر آتی ہے اور فی الحال اسے کسی بڑی سیاسی پیشرفت کا پیش خیمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
سینیئر تجزیہ کار احمد ولید نے بھی سیاسی تبدیلی سے متعلق خبروں کو افواہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف سیاسی رہنماؤں کے درمیان ملاقاتیں دراصل سیاسی ماحول کو ’کول ڈاؤن‘ کرنے کی کوششیں ہیں تاکہ ملک میں کشیدگی مزید نہ بڑھے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ علاقائی صورتحال، خصوصاً ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں پاکستانی ریاست اس وقت داخلی استحکام کو ترجیح دے رہی ہے۔ احمد ولید کے مطابق اگرچہ نئے سیٹ اپ، صدر یا گورنر کی تبدیلی سے متعلق افواہیں گردش کر رہی ہیں تاہم فوری طور پر ایسی کوئی واضح یا عملی صورتحال نظر نہیں آتی۔
یہ بھی پڑھیے: محمود خان اچکزئی نئے اپوزیشن لیڈر، نیا میثاق جمہوریت ہو گا؟
سیاسی مبصرین کے مطابق آنے والے چند ہفتے ملکی سیاست کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کے رابطے، پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات اور خیبر پختونخوا کی بدلتی ہوئی صورتحال پر سیاسی حلقوں کی نظریں مرکوز ہیں تاہم فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ ملاقاتیں واقعی کسی بڑی سیاسی تبدیلی کا پیش خیمہ ہیں یا محض معمول کی سیاسی مشاورت۔













