وزارتِ تجارت نے گیمبیا کے ساتھ زرعی تجارت، خصوصاً چاول کی برآمدات کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی غرض سے وفاقی کابینہ سے منظوری طلب کر لی ہے۔
گیمبیا کی حکومت نے زرعی اجناس کی درآمد کے لیے باضابطہ حکومت سے حکومت کی سطح پر تعاون قائم کرنے کے سلسلے میں ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان سے رابطہ کیا تھا۔
یہ پیشرفت ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کی جانب سے حالیہ رابطوں کے بعد سامنے آئی، جن کے دوران گیمبیا کے حکام نے پاکستانی چاول درآمد کرنے میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔
یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت آصف علی زرداری سے چائنا افریقہ چیمبر آف کامرس کی نائب صدر کی ملاقات
رپورٹس کے مطابق گیمبیا نے تقریباً ایک لاکھ 45 ہزار میٹرک ٹن چاول کی طلب ظاہر کی ہے۔
مذاکرات کے بعد ٹریڈنگ کارپوریشن نے گیمبیا کے متعلقہ حکام کے ساتھ مجوزہ ایم او یو کے تحت تجارتی تعاون کے لیے ایک باقاعدہ فریم ورک کو حتمی شکل دینے کے لیے بات چیت شروع کر دی۔
حکام کے مطابق یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تجارت کے لیے ایک باضابطہ نظام قائم کرے گا، جس کے تحت ٹریڈنگ کارپوریشن کے ذریعے چاول اور دیگر زرعی اجناس کی فراہمی کے لیے ریاستی سطح پر براہِ راست رابطہ ممکن ہو سکے گا۔
مزید پڑھیں: افریقہ عالمی تجارت کا مستقبل ہے، پاکستانی تاجروں کو افریقہ میں اپنی موجودگی بڑھانی چاہیے، ایتھوپین سفیر
انہوں نے کہا کہ اس انتظام سے پاکستان کی برآمدی بنیاد مضبوط ہوگی، غذائی تحفظ کے شعبے میں تعاون بڑھے گا اور نئی افریقی منڈیوں تک رسائی حاصل ہونے سے معاشی سفارت کاری کو بھی فروغ ملے گا، جبکہ نجی ثالثوں پر انحصار میں کمی آئے گی۔
مفاہمتی یادداشت کے مسودے کی پہلے ہی وزارتِ قانون سے منظوری حاصل کی جا چکی ہے، جبکہ وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور وزارتِ خارجہ نے بھی اس تجویز کی توثیق کر دی ہے۔
وزارتِ تجارت نے اب وفاقی کابینہ کو سفارش کی ہے کہ ٹریڈنگ کارپوریشن کو گیمبیا کی متعلقہ وزارت کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ ٹی سی پی کے چیئرمین/سی ای او حکومتِ پاکستان کی جانب سے مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کر سکیں۔














