امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ چین سے قبل امریکا کی ’ون چائنا پالیسی‘ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تائیوان سے متعلق امریکی مؤقف میں معمولی لفظی غلطی بھی چین اور امریکا کے درمیان شدید سفارتی کشیدگی پیدا کر سکتی ہے، کیونکہ اس معاملے میں استعمال ہونے والے الفاظ انتہائی حساس سمجھے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران معاہدے میں چین کی انٹری، بڑی ہلچل
عرب نیوز کے مطابق امریکا تقریباً 50 برس سے ’ون چائنا پالیسی‘ پر عمل کر رہا ہے، جس کے تحت واشنگٹن چین کے اس مؤقف کو تسلیم کرتا ہے کہ تائیوان چین کا حصہ ہے، تاہم ساتھ ہی تائیوان کے ساتھ غیر رسمی تعلقات بھی برقرار رکھتا ہے۔ اس پالیسی کو ’اسٹریٹجک ابہام‘ کہا جاتا ہے، یعنی امریکا تائیوان کو دفاعی مدد دینے کا عندیہ تو دیتا ہے مگر یہ واضح نہیں کرتا کہ چین کے حملے کی صورت میں وہ فوجی طور پر کس حد تک جائے گا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ماضی میں کئی امریکی صدور اس حساس معاملے پر زبان پھسلنے کا شکار ہوئے۔ سابق صدر جو بائیڈن نے متعدد بار یہ عندیہ دیا کہ اگر چین نے تائیوان پر حملہ کیا تو امریکا فوجی مداخلت کرے گا، جس کے بعد وائٹ ہاؤس کو وضاحتیں جاری کرنا پڑیں کہ امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

اسی طرح ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت سے قبل 2016 میں تائیوان کی صدر سے فون پر بات کرکے سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی تھی۔ بعد ازاں ٹرمپ انتظامیہ نے ایک بیان میں چینی صدر شی جن پنگ کو غلطی سے ’ریپبلک آف چائنا‘ کا صدر قرار دے دیا تھا، جسے بعد میں درست کرنا پڑا۔ کیوں کہ ’ریبلک آف چائنا‘ تائیوان کا نام ہے، چین کا سرکاری نام ’پیپلز ریپبلک آف چائنا‘ ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکا کی تائیوان پالیسی ہمیشہ سے پیچیدہ رہی ہے، کیونکہ واشنگٹن ایک طرف تائیوان کی سلامتی کا حامی ہے جبکہ دوسری جانب چین کو ناراض بھی نہیں کرنا چاہتا۔ سابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تائیوان کے معاملے پر ہر لفظ انتہائی احتیاط سے استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ معمولی غلطی بھی بڑے سفارتی بحران کا سبب بن سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:صدر ٹرمپ دورۂ چین میں ’بڑی کامیابیوں‘ کے لیے پر امید
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے حالیہ دورۂ چین کے دوران بھی تائیوان کا معاملہ عالمی سیاست میں اہم موضوع بنا رہے گا، جبکہ واشنگٹن اور بیجنگ دونوں اس حساس توازن کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے۔














