بھارت کی شدت پسند ہندو تنظیم آر ایس ایس نے امریکا، برطانیہ اور یورپ میں اپنی سرگرمیاں بڑھاتے ہوئے عالمی سطح پر اپنی شبیہ بہتر بنانے کی مہم شروع کر دی ہے، جبکہ دوسری جانب امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی رپورٹ اور انسانی حقوق کے ماہرین نے اقلیتوں کے خلاف تشدد میں تنظیم کے کردار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
بھارت کی بااثر ہندو قوم پرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نے اعتراف کیا ہے کہ وہ امریکا سمیت مختلف مغربی ممالک میں لابنگ اور رابطہ مہم چلا رہی ہے تاکہ تنظیم کے بارے میں پائے جانے والے ’غلط تصورات‘ کو دور کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے مودی اور آر ایس ایس کا گٹھ جوڑ انتہا پسندی کی جڑ، ریاستی وزیر کو قتل کی دھمکیاں
آر ایس ایس کے جنرل سیکریٹری دتاتریہ ہوسابالے نے نئی دہلی میں غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے امریکا، برطانیہ، جرمنی اور دیگر ممالک میں مختلف تقاریب اور ملاقاتوں کے دوران تنظیم کے مؤقف کی وضاحت کی۔
ان کے مطابق آر ایس ایس کے خلاف یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ ہندو بالادستی کو فروغ دیتی ہے، معاشرے کو پیچھے لے جانا چاہتی ہے اور اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری سمجھتی ہے، حالانکہ ’حقیقت اس کے برعکس ہے‘۔
Inside the RSS machine that built the ground for BJP’s Bengal triumph https://t.co/l10TUPQhZU @IndianExpress
— Shyamlal Yadav (@RTIExpress) May 13, 2026
ہوسابالے کا کہنا تھا کہ بیرونِ ملک دوروں کے دوران انہوں نے ماہرینِ تعلیم، پالیسی سازوں اور کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں کیں، جبکہ مستقبل میں یورپ اور جنوب مشرقی ایشیا سمیت مزید خطوں میں بھی تنظیمی نمائندے بھیجے جائیں گے۔
آر ایس ایس کی یہ سفارتی و ابلاغی مہم ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) نے اپنی رپورٹ میں تنظیم پر اقلیتی برادریوں کے خلاف ’شدید تشدد اور عدم برداشت‘ میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے بھارتی ثقافت اپنائیں تو مسلمان اور عیسائی بھی ہندو ہیں، آر ایس ایس چیف کا بیان
یہ کمیشن امریکی وفاقی حکومت کا دو جماعتی ادارہ ہے جو دنیا بھر میں مذہبی آزادی کی صورتحال کا جائزہ لے کر امریکی صدر، وزیر خارجہ اور کانگریس کو سفارشات پیش کرتا ہے۔
گزشتہ ہفتے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر کمزور طبقات کے خلاف نفرت انگیز جرائم پر تحقیق کرنے والے ماہر راقیب حمید نائیک نے کمیشن کے سامنے گواہی دیتے ہوئے کہا کہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف مبینہ ظلم و ستم کو وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں اعلیٰ سیاسی سرپرستی حاصل ہے۔ ان کے مطابق یہ کارروائیاں ریاستی اداروں اور آر ایس ایس سے وابستہ تنظیموں، بشمول بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد، کے ذریعے انجام دی جاتی ہیں۔
RSS lobbies in US/UK amid USCIRF sanctions call & Magnitsky Act threat. Evidence piles up: Churches attacked during Christmas, Muslims lynched, mosques demolished. The world sees the violence. RSS can’t hide behind propaganda anymore. 🇮🇳💔https://t.co/CilPgHAVh1#RSS #USCIRF pic.twitter.com/pSH4OYmaEN
— Global WatchDog (@1129_ali) May 13, 2026
سینٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ (CSOH) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر راقیب حمید نائیک نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ریکارڈ پیش کرتے ہوئے مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، آر ایس ایس اور دیگر رہنماؤں پر گلوبل میگنٹسکی پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
واضح رہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نوجوانی میں آر ایس ایس سے وابستہ رہے ہیں، جبکہ بھارت میں بی جے پی کے سیاسی عروج کو بھی آر ایس ایس کے وسیع تنظیمی نیٹ ورک کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اس دور میں بھارت میں ہندو مسلم سیاسی تقسیم مزید گہری ہوئی ہے۔
آر ایس ایس خود کو ’ہندو تہذیبی و ثقافتی تحریک‘ قرار دیتی ہے، جس کا مقصد ہندوؤں کو متحد کرنا اور ملک کو ’عروج کی بلندیوں‘ تک پہنچانا ہے۔ تاہم یہ تنظیم 1925 میں قیام کے بعد کئی مرتبہ پابندیوں کا سامنا کر چکی ہے۔ 1948 میں مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد بھی تنظیم پر پابندی عائد کی گئی تھی کیونکہ قاتل ناتھورام گوڈسے آر ایس ایس سے وابستہ تھا۔
بھارتی اپوزیشن، خصوصاً کانگریس رہنما راہول گاندھی، آر ایس ایس پر مسلسل الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ وہ اکثریتی اور تقسیم پیدا کرنے والی سیاست کو فروغ دے رہی ہے، جو بھارت کے سیکولر تشخص اور اقلیتوں کے حقوق کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔
مودی حکومت پہلے ہی آر ایس ایس کے 2 بڑے نظریاتی اہداف مکمل کر چکی ہے۔ ان میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر اور 2019 میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کا خاتمہ شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیے مودی کے دور میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں خوفناک اضافہ، مذہبی ہم آہنگی خطرے میں
ہوسابالے نے ایک تقریب کے دوران کہا کہ ’ہندوؤں نے کبھی کسی ملک پر حملہ نہیں کیا اور نہ ہی انہیں کسی بات پر معذرت کی ضرورت ہے‘۔ تاہم مؤرخین اس دعوے سے اتفاق نہیں کرتے اور تاریخ میں مختلف ہندو سلطنتوں کی فتوحات اور جنگی مہمات کا حوالہ دیتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ 1971 میں بھارت نے اس وقت کے مشرقی پاکستان میں فوجی مداخلت کی، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش وجود میں آیا۔ اسی طرح کشمیر، حیدرآباد اور جوناگڑھ کی ریاستوں کے الحاق کا معاملہ بھی تنازع کا حصہ رہا ہے۔
The Rashtriya Swayamsevak Sangh (RSS) has organized foreign visits to the U.S. and other countries to counter perceptions of it being a paramilitary outfit involved in attacks on minority communities.
More Here → https://t.co/ef9lEJBoys pic.twitter.com/kc1gVAE8SH
— PiQ Newswire (@PiQNewswire) May 12, 2026
ہوسابالے نے امریکا میں آر ایس ایس کا موازنہ نسل پرست امریکی تنظیم ’کو کلس کلان’(KKK) سے کیے جانے کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے آر ایس ایس کے 100 سال: تربیتی کیمپس کے ذریعے مذہبی نفرت کو منظم کیا گیا، نیویارک ٹائمز کی رپورٹ
اگرچہ آر ایس ایس امریکا میں براہِ راست سرگرم نہیں، تاہم اس کی نظریاتی سرگرمیاں ’ہندو سویم سیوک سنگھ امریکا‘ (HSS USA) کے ذریعے جاری ہیں، جسے مبصرین آر ایس ایس کا بین الاقوامی ونگ قرار دیتے ہیں۔ تنظیم امریکا کی 33 ریاستوں میں 267 شاخیں چلانے کا دعویٰ کرتی ہے۔
امریکی جامعات اور تحقیقی اداروں کی متعدد رپورٹس کے مطابق HSS امریکا میں ہندو قوم پرستی کے نظریات کے فروغ، فنڈنگ اور سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے میں کردار ادا کرتی ہے، تاہم تنظیم ان الزامات کو سیاسی تعصب قرار دیتی ہے۔
حال ہی میں آر ایس ایس اس وقت مزید تنازع کی زد میں آئی جب انکشاف ہوا کہ اس نے امریکا میں لابنگ کے لیے معروف فرم ’اسکوائر پیٹن بوگز‘ کی خدمات حاصل کیں۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق آر ایس ایس نے امریکی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان میں لابنگ کے لیے اس فرم کو 3 لاکھ 30 ہزار ڈالر ادا کیے۔














