موٹاپا کم کرنے والے انجیکشن چھوڑنے کے بعد دوبارہ وزن بڑھنے کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک نئی روزانہ استعمال ہونے والی گولی امید کی نئی کرن بن کر سامنے آئی ہے۔
تازہ تحقیق کے مطابق ’اورفورگلیپرون‘ نامی دوا وزن کم کرنے والے انجیکشن بند کرنے کے بعد بھی مریضوں کو اپنا وزن قابو میں رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔
مزید پڑھیں:وزن کم کرنے والی ادویات کا غیر محتاط استعمال صحت کے سنگین مسائل کھڑے کرتا ہے، ماہرین
یہ تحقیق طبی جریدے نیچر میڈیسن میں شائع ہوئی، جس کی مالی معاونت دوا ساز کمپنی ایلی للی نے کی۔ یہی کمپنی موٹاپا کم کرنے والی دوا بھی تیار کرتی ہے۔
تحقیق میں امریکا کے 376 ایسے افراد کو شامل کیا گیا جو ایک سال سے زائد عرصے تک انجیکشنز، استعمال کرکے وزن کم کر چکے تھے۔ بعد ازاں انہیں انجیکشن بند کروا کر ایک سال تک روزانہ یا تو اورفورگلیپرون گولی دی گئی یا پھر بغیر دوا والی گولی۔
نتائج کے مطابق اورفورگلیپرون استعمال کرنے والے افراد نے اپنے کم کیے گئے وزن کا 70 فیصد سے زائد برقرار رکھا، جبکہ دوسری جانب عام گولی لینے والے افراد صرف 38 سے 50 فیصد تک وزن برقرار رکھ سکے۔
ماہرین کے مطابق یہ دوا جسم میں ایسے ہارمون کی نقل کرتی ہے جو بھوک کم کرتا اور معدہ زیادہ دیر تک بھرا ہونے کا احساس دیتا ہے۔
روزانہ گولی کھانا بہت سے مریضوں کے لیے انجیکشن لگوانے سے زیادہ آسان اور قابلِ قبول ہو سکتا ہے، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ اس دوا کے اثرات کتنے عرصے تک برقرار رہیں گے اور آیا مریضوں کو اسے طویل مدت یا زندگی بھر استعمال کرنا پڑ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:پاکستانی بچے ذیابطیس کا شکار کیوں ہو رہے ہیں؟
تحقیق میں دوا کے کچھ مضر اثرات بھی سامنے آئے جن میں متلی، قبض اور اسہال شامل ہیں، تاہم زیادہ تر علامات ہلکی نوعیت کی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ دوا مستقبل میں وسیع پیمانے پر مؤثر ثابت ہوتی ہے تو یہ نہ صرف وزن دوبارہ بڑھنے کے مسئلے کو کم کر سکتی ہے بلکہ دل کی بیماریوں، بلند فشار خون اور ذیابیطس جیسے خطرات میں کمی میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔














