اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پارلیمانی امور کی ڈیجیٹلائزیشن اور پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی جدید ورکنگ ماحول کے قیام سے متعلق ایک اہم اجلاس کی صدارت کی۔
اجلاس میں قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے سینیئر افسران، آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ اور نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی) کے حکام نے شرکت کی۔
اس کے علاوہ اسپیکر صوبائی اسمبلی بلوچستان کیپٹن (ر) عبدالخالق، اراکین قومی اسمبلی گل اصغر خان، سید امین الحق، شائستہ پرویز ملک اور سیدہ آمنہ بتول بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
اجلاس میں جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کے ذریعے پارلیمانی امور کو مؤثر، جدید اور پیپر لیس نظام میں تبدیل کرنے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ پارلیمانی امور کی ڈیجیٹلائزیشن وقت کی اہم ضرورت ہے اور یہ اقدام ادارہ جاتی استعداد، شفافیت اور بہتر طرز حکمرانی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپر لیس پارلیمنٹ کے قیام سے نہ صرف کام کی رفتار اور مؤثریت میں اضافہ ہوگا بلکہ کاغذ کے استعمال اور انتظامی اخراجات میں کمی کے ذریعے قومی خزانے پر بوجھ بھی کم ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ قومی اسمبلی کے تمام اراکین کو پارلیمانی دستاویزات، ایجنڈا، نوٹسز اور دیگر ریکارڈ تک ڈیجیٹل رسائی کے لیے آئی پیڈز فراہم کیے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق مستقبل قریب میں ایوان کا تمام پارلیمانی بزنس ڈیجیٹل ڈیوائسز کے ذریعے انجام دیا جائے گا، جس سے اراکین کو مکمل الیکٹرانک رسائی حاصل ہوگی۔
اجلاس میں این آئی ٹی بی اور آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں پارلیمانی امور کو بہتر بنانے کے لیے مقامی سطح پر تیار کردہ اے آئی سے مربوط ایپلیکیشنز اور ڈیجیٹل پروگرامز تیار کیے گئے ہیں۔ یہ نظام ڈیجیٹل ڈاکیومنٹیشن، اسمارٹ ڈیٹا مینجمنٹ، خودکار پراسیسنگ اور مختلف شعبوں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری میں معاون ثابت ہوگا۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے مقامی سطح پر جدید ٹیکنالوجیکل سلوشنز کی تیاری پر آئی ٹی ٹیموں اور این آئی ٹی بی کی کاوشوں کو سراہا اور ہدایت کی کہ مکمل ڈیجیٹل اور اے آئی سے مربوط پارلیمنٹ کی طرف منتقلی کے عمل کو مزید تیز کیا جائے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پارلیمانی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال جاری رکھا جائے گا تاکہ قومی اسمبلی ایک جدید، مؤثر اور ماحول دوست ادارے کے طور پر مزید مستحکم ہو۔














