چند روز قبل وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں مسلم لیگ ن کے رکن صوبائی اسمبلی رانا منان خان کے اکلوتے بیٹے احمد کے علاج کے اخراجات کے لیے 50 لاکھ 87 ہزار روپے سرکاری خزانے سے ادا کرنے کی منظوری دی گئی۔ یہ رقم لاہور کے بحریہ ٹاؤن پرائیویٹ اسپتال کے بل کی ادائیگی کے لیے منظور کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: دفاع وطن وطن کے لیے افواج پاکستان کے شانہ بشانہ ہیں، معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر پنجاب اسمبلی میں قرارداد منظور
رانا منان خان نے اپنی درخواست میں بتایا کہ وہ ذاتی طور پر یہ بھاری بل ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے جس پر کابینہ نے قانونی شق کے تحت رولز میں نرمی کرتے ہوئے منظوری دی۔ اس فیصلے پر عوامی سطح پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور سوشل میڈیا پر لوگ اسے مراعات یافتہ سلوک اور عوام کے ٹیکس کے پیسے کی ناجائز خرچ قرار دے رہے ہیں۔
منان خان پی پی 55 نارووال سے ن لیگ کے ایم پی اے ہیں۔ ان کے بیٹے کا ایکسیڈنٹ ہوا تو اس کا علاج پرائیویٹ ہسپتال میں ہوا۔ قانون کے مطابق کسی ایم پی اے ایم این اے کو پرائیویٹ ہسپتال میں علاج کی اجازت نہیں، لیکن پنجاب حکومت نے رولز ریلیکس کر کے ان کے لیے 50 لاکھ روپے کی منظوری دی! رؤف… pic.twitter.com/zy5Igl8kCS
— Siasat.pk (@siasatpk) May 12, 2026
یہ واقعہ جولائی 2025 میں لاہور کے علاقے سندر میں پیش آنے والے ایک ہولناک ٹریفک حادثے سے متعلق ہے جس میں احمد کی گاڑی ایک بھاری ریت کے ڈمپر سے ٹکرا گئی تھی۔ اس حادثے میں احمد شدید زخمی ہوا جبکہ ایک پولیس اہلکار عبدالستار موقعے پر جاں بحق ہو گیا۔ زخمی احمد کو فوری طور پر بحریہ ٹاؤن پرائیویٹ اسپتال منتقل کیا گیا جہاں طویل علاج کے دوران بل لاکھوں روپے تک پہنچ گیا۔
مزید پڑھیے: کفایت شعاری مہم، پنجاب اسمبلی کے ملازمین کو ملنے والا اعزازیہ بھی بند
پنجاب میں سرکاری ملازمین اور عہدیداروں کے میڈیکل ری امبرسمنٹ کے لیے پنجاب میڈیکل اٹینڈنس رولز اور پنجاب سول سروسز رولز موجود ہیں جن کے تحت عام طور پر پرائیویٹ اسپتالوں کے مہنگے بلز سرکاری خزانے سے ادا نہیں کیے جاتے۔ تاہم کابینہ کو قواعد میں نرمی دینے کا قانونی اختیار حاصل ہے جس کا اطلاق رانا منان خان کے بیٹے کے کیس میں کیا گیا۔ اجلاس میں دیگر افسران کے بلز بھی منظور کیے گئے، جن میں انفارمیشن سیکرٹری طاہر رضا کے لیے 10 لاکھ روپے اور ایڈیشنل سیکرٹری سبحان بٹ کے لیے 5 لاکھ روپے شامل ہیں۔
رانا منان خان کا مؤقف
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے رانا منان خان نے کہا کہ یہ درخواست ایک سال پرانی ہے اور حادثے میں ان کے بیٹے کے ساتھ پولیس اہلکار شہید ہو گئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ رولز میں نرمی نہیں کی گئی کیونکہ سرکاری اسپتال میں ان کے بیٹے کا علاج ممکن نہیں تھا جس کی وجہ سے علاج پرائیویٹ اسپتال میں کرنا پڑا۔
رانا منان خان نے مزید کہا کہ منظور شدہ رقم کا مقصد شہید اہلکار کے اہل خانہ کو دی جانی والی امداد ہے اور جیسے ہی انہیں رقم موصول ہوگی وہ یہ پیسے اہلخانہ کو دے دیں گے۔
مزید پڑھیں: لڑکی کی شادی کے لیے کم از کم عمر 18 سال مقرر، پنجاب اسمبلی میں بل کثرت رائے سے منظور
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ان کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔













