کراچی سے چمن تک قومی شاہراہ این 25 کو دو رویہ بنانے کا منصوبہ جسے پاکستان ایکسپریس وے کا نام دیا گیا ہے بلوچستان کے لیے ایک بڑے ترقیاتی منصوبے کے طور پر سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا دورۂ کوئٹہ، این 25 شاہراہ اور دانش اسکولوں کا افتتاح کریں گے
ماضی میں حادثات کی وجہ سے خونی شاہراہ کہلانے والی این 25 اب جدید ایکسپریس وے میں تبدیل کی جا رہی ہے جس سے نہ صرف سفر محفوظ ہوگا بلکہ صوبے کی معیشت اور علاقائی تجارت پر بھی دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔
810 کلو میٹر طویل اس منصوبے میں کراچی سے چمن تک سڑک کی توسیع کے ساتھ ساتھ کوژک پہاڑ میں 3 اعشاریہ 6 کلو میٹر طویل دو رویہ ٹنل بھی تعمیر کی جا رہی ہے۔
اس ٹنل کے باعث چمن سے شیلہ باغ تک سفر کا دورانیہ 40 منٹ سے کم ہو کر صرف 5 منٹ رہ جائے گا جبکہ کراچی سے چمن تک مجموعی سفر تقریباً 8 گھنٹوں میں مکمل ہو سکے گا۔
وفاقی حکومت اور ایف ڈبلیو او کے تعاون سے جاری منصوبے کی تکمیل اکتوبر 2027 تک متوقع ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے منصوبے کو بلوچستان کی ترقی کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے حاصل ہونے والی رقم عوامی فلاح اور قومی شاہراہوں کی تعمیر پر خرچ کی جائے گی اور این 25 کی توسیع اسی وژن کا حصہ ہے۔
مزید پڑھیے: بلوچستان کی شاہراہیں موت کی راہیں: 5 سال میں 77 ہزار حادثات، 1700 سے زائد اموات
ماہرین کے مطابق پاکستان ایکسپریس وے محض ایک سڑک کا منصوبہ نہیں بلکہ بلوچستان کی معاشی سمت تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔ این 25 جغرافیائی لحاظ سے انتہائی اہم شاہراہ سمجھی جاتی ہے کیونکہ یہ کراچی کی بندرگاہوں کو بلوچستان کے سرحدی شہر چمن سے ملاتی ہے جہاں سے افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں تک زمینی تجارت ممکن بنتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس شاہراہ کی بہتری سے پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں اضافہ ہوگا جبکہ گوادر اور کراچی بندرگاہوں سے آنے والا تجارتی سامان کم وقت میں سرحدی علاقوں تک پہنچ سکے گا۔ علاوہ ازیں معدنیات سے مالا مال بلوچستان کے مختلف اضلاع کو بھی بہتر روڈ نیٹ ورک میسر آئے گا جس سے معدنی وسائل کی ترسیل اور سرمایہ کاری میں اضافہ متوقع ہے۔
سیکیورٹی اور سماجی لحاظ سے بھی منصوبے کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ماضی میں دشوار راستوں اور طویل سفر کے باعث کئی علاقے ترقی کے دھارے سے کٹے ہوئے تھے تاہم جدید شاہراہ کی تعمیر سے ان علاقوں میں کاروباری سرگرمیاں بڑھنے اور سیاحت کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔
مزید پڑھیں: N25: بلوچستان کی قاتل شاہراہ جو سالانہ سینکڑوں زندگیاں نگل لیتی ہے
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل ہو جاتا ہے تو یہ بلوچستان میں روزگار، ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس اور مقامی صنعتوں کے لیے نئی راہیں کھول سکتا ہے۔
دوسری جانب بعض حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ شاہراہ کی تعمیر کے ساتھ ساتھ صحت، تعلیم اور صنعتی زونز پر بھی توجہ دینا ضروری ہوگا تاکہ اس منصوبے کے ثمرات عام آدمی تک پہنچ سکیں۔
یہ بھی پڑھیے: بلوچستان کی خونی شاہراہیں: جولائی میں 2 ہزار 207 حادثات، 26 جاں بحق، 2913 زخمی
بلوچستان کے عوام نے پاکستان ایکسپریس وے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ منصوبہ صوبے کو ملک کے دیگر حصوں سے مزید مؤثر انداز میں جوڑنے کے ساتھ ساتھ اقتصادی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔













